اہلخانہ کا کہنا ہے نیرزیدی حراست میں‌ نہیں، خبروں کا ماخذ صرف ایک ویب سائیٹ

nayyar-zaidi.jpgامریکہ میں جنگ گروپ کی نمائندگی کرنے والے سینئر پاکستانی صحافی نیرزیدی کی ”ٹین سیکس” کے الزام میں مبینہ گرفتاری کی خبریں سامنے آنے کے بعد اب دعویٰ کیا گیا ہے کہ نیر زیدی نے جیل سے 14صفحات پر مشتمل ایک خط لکھا ہے جس میں انہوں نے اپنی گرفتاری کا پس منظر بیان کیا ہے۔

امریکہ ریاست نیوجرسی میں قائم ویب سائیٹ ”دیس پردیس” کے ایڈیٹر ارشاد سلیم کے مطابق نیر زیدی نے ہاتھ سے لکھی ہوئی 14صفحات پر مشتمل دستاویز انہیں بھیجی ہے جس میں جنگ گروپ کے نامہ نگار نے کہا ہے کہ وہ انٹرنیٹ کے نتیجے میں آنے والی سیاسی اور سماجی تبدیلیوں پر ایک رپورٹ کے سلسلے میں کام کر رہے تھے جس میں والدین کی بچوں سے جنسی زیادتی کا پہلو بھی شامل تھا اوراسی رپورٹ پر کام کرتے ہوئے انہیں گرفتار کیا گیا۔ انہوں نے یہ موقف بھی اختیار کیا کہ امریکی خفیہ ادارے طویل عرصے سے ان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے اور انہیں ایک stingآپریشن کا نشانہ بنایا گیا۔

نیر زیدی کے بارے میں کچھ ہفتے قبل اسی ویب سائیٹ نے دعویٰ کیا تھا کہ انہیں ایف بی آئی کی ایجنٹ ایک 13سالہ لڑکی نے اوہائیو بلا کر گرفتار کرا دیا ہے اور الزامات ہیں کہ وہ اس لڑکی سے ملنے کیلئے اوہائیو آئے تھے۔

تاہم انگریزی روزنامے ڈیلی ٹائمز کے مطابق پاکستانی صحافی کے اہلخانہ اس بات کی تردید کرتے ہیں کہ نیرزیدی زیرحراست ہیں۔ ڈیلی ٹائمز نے 7اگست کو اپنی رپورٹ میں کہا کہ امریکہ میں پاکستانی سفارتخانے کے ایک اہلکار کو نیر زیدی کے اہلخانہ سے رابطے کی ہدایت کی گئی تھی اور اس اہلکار کو نیرزیدی کی اہلیہ نے بتایا ہے کہ ان کے شوہر زیر حراست نہیں البتہ واشنگٹن سے باہر گئے ہوئے ہیں۔

تاہم دیس پردیس کے ایڈیٹر کا دعویٰ ہے کہ نیرزیدی اور ان کی اہلیہ نے گذشتہ چند ہفتوں کے دوران ان سے فون پر بات کی ہے اور وہ یقین سے کہہ سکتے ہیں کہ زیدی جیل میں ہیں۔ ڈیلی ٹائمز نے بھی نیرزیدی کے اہلخانہ کی طرف سے تردید کی خبر شائع کرتے ہوئے کہا تھاکہ ان کے ”خاندان کے دعوئوں سے قطع نظر زیدی رواں سال مارچ سے اوہائیو کے جیل میں ہیں۔”

لیکن یہ بات بھی اہم ہے کہ نیر زیدی کی گرفتاری کے سلسلے میں خبروں کا ماخذ صرف دیس پردیس کے مدیر ہی رہے ہیں۔ ڈیلی ٹائمز کے امریکہ میں‌ نمائندے خالد حسن نے بھی ابتدائی رپورٹ ارشاد سلیم کے حوالے سے ہی دی تھی۔

دیس پردیس پرشائع ہونے والی نیر زیدی سے منسوب دستاویز میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ جس سٹوری پر کام کر رہے تھے وہ ایک بڑے صحافتی پروجیکٹ کا حصہ تھی اور یہ منطقی بات تھی کہ وہ کسی ایسے فرد سے رابطہ کریں جس کا کہنا ہو کہ اسے اس کے والدین نے زیادتی کا نشانہ بنایا ہے۔

دستاویز میں نیرزیدی کا موقف تھا کہ امریکی ادارے طویل عرصے سے ان کے پیچھے پڑے ہوئے تھے۔ زیدی سے منسوب دستاویز کے مطابق انہوں نے کہا کہ وہ افغان جہاد کے دوران امریکہ کی طرف سے افغانوں کو ہیروئین کی لیبارٹریز دینے کا انکشاف کرنے والے پہلے صحافی تھے اور اس انکشاف پر امریکی سفیر نے وائس آف امریکہ کے ساتھ ان کا 17سالہ معاہدہ ختم کرا دیا تھا۔

نیر زیدی نے کہا کہ 2003 میں ایف بی آئی نے جب ان کے گھر سے مختلف ممالک میں 10فون نمبرز پر کالز کیے جانے کا الزام لگایا تو انہیں بتایا گیا تھا کہ ان میں سے ایک نمبر خالد شیخ محمد کی ڈائری میں ملا ہے۔ پاکستانی صحافی کا کہنا تھا کہ وہ بیرون ملک کالز صرف پیشہ ورانہ ضروریات کے تحت ہی کرتے ہیں اور وہ نہیں جانتے کہ کس شخص کا نمبر خالد شیخ محمد کی ڈائری میں ہے۔

نیر زیدی نے بتایا کہ گرفتاری کے 120دن بعد انہیں آگاہ کیا گیا کہ ایف بی آئی نے ان کے انٹرنیٹ اکائونٹ تک رسائی حاصل کرلی ہے۔ زیدی نے خدشہ ظاہر کیا کہ ان کے اکائونٹ کو غلط استعمال کرکے ان کے خلاف جعلی ثبوت جمع کیے جاسکتے ہیں۔

دستاویز کے مطابق نیرزیدی کو ضمانت پر رہائی نہیں دی جارہی جبکہ ان کا مقدمہ شروع ہونے میں 60دن رہ گئے ہیں۔ تاہم دیس پردیس پر جاری ہونے والے اس دستاویز کے حقیقی ہونے کی تصدیق نہیں ہوسکی۔ امریکہ میں جنگ گروپ کے ایک اور نامہ نگار کے مطابق وہ بھی اس کی تصدیق نہیں کرسکے۔ نیرزیدی کی گرفتاری سے متعلق روزنامہ جنگ میں صرف ایک سنگل کالم خبر شائع ہوئی ہے اور وہ بھی خبرایجنسی کے حوالے سے لگائی گئی تھی۔

دیس پردیس کے مدیر ارشاد سلیم کے مطابق نیر زیدی نے یہ دستاویز انہیں 5اگست کو بھیجی تھی۔