پرانے زمانے میں لوگ ایک مشین کے سامنے بیٹھے رہتے تھے جو کافی بھدی ہوتی تھے لیکن یہ لوگ اسے بہت ہی ماڈرن مشین سمجھتے تھے اور اسے کمپیوٹر کہتے تھے۔ ان کا انٹرنیٹ انہی مشینوں پر چلتا تھا اور وہ اس میں الگ الگ کئی کھڑکیاں کھول کر ویب سائیٹس کو پڑھتے تھے۔ آج ہم جو کام ہم اپنی سپر سلیٹ سے لیتے ہیں اور جسے ہم کپڑے کی طرح تہہ کر کے کہیں بھی لے چلتے ہیں، یہی کام وہ لوگ ان کمپیوٹر نامی مشینوں سے لیا کرتے تھے۔ مجھے یہ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ وہ ہونقوں کی طرح کیسے ان بے ہنگم اور بڑی مشینوں کے سامنے جم کربیٹھے رہتے ہوں گے جو ایک جگہ سے ہلتی بھی نہیں تھیں۔

سنا ہے یہ مشینیں بجلی بھی بہت استعمال کرتی تھیں۔ ہماری سپرسلیٹ تو ذرا سی دھوپ لگنے پر کئی گھنٹے تک کام کرتی رہتی ہے لیکن خیر پرانے لوگ کیا جانیں۔ وہ تو اپنی تیئں خود کو ماڈرن سمجھتے تھے کہ ان سے پچھلے والوں کو کمپیوٹر بھی دستیاب نہیں تھا اور وہ کتابیں پڑھتے تھے۔ کتابیں کیا ہوتی ہیں!! یہ بتانا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ میں نے کبھی کتاب دیکھی ہی نہیں۔ آپ نے دیکھی ہو تو ضرور بتائے گا۔

مجھے تو یہی سوچ کر ہنسی آتی ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ آپ کرسی میز کا اہتمام کر کے ایک کمپیوٹر نامی مشین کے سامنے گھنٹوں بیٹھے رہیں جیسے سزا لگی ہو۔