Jul
28
2008
عدم سوچ کا دھارا
پرانے زمانے میں لوگ ایک مشین کے سامنے بیٹھے رہتے تھے جو کافی بھدی ہوتی تھے لیکن یہ لوگ اسے بہت ہی ماڈرن مشین سمجھتے تھے اور اسے کمپیوٹر کہتے تھے۔ ان کا انٹرنیٹ انہی مشینوں پر چلتا تھا اور وہ اس میں الگ الگ کئی کھڑکیاں کھول کر ویب سائیٹس کو پڑھتے تھے۔ آج ہم جو کام ہم اپنی سپر سلیٹ سے لیتے ہیں اور جسے ہم کپڑے کی طرح تہہ کر کے کہیں بھی لے چلتے ہیں، یہی کام وہ لوگ ان کمپیوٹر نامی مشینوں سے لیا کرتے تھے۔ مجھے یہ سوچ کر ہنسی آتی ہے کہ وہ ہونقوں کی طرح کیسے ان بے ہنگم اور بڑی مشینوں کے سامنے جم کربیٹھے رہتے ہوں گے جو ایک جگہ سے ہلتی بھی نہیں تھیں۔
سنا ہے یہ مشینیں بجلی بھی بہت استعمال کرتی تھیں۔ ہماری سپرسلیٹ تو ذرا سی دھوپ لگنے پر کئی گھنٹے تک کام کرتی رہتی ہے لیکن خیر پرانے لوگ کیا جانیں۔ وہ تو اپنی تیئں خود کو ماڈرن سمجھتے تھے کہ ان سے پچھلے والوں کو کمپیوٹر بھی دستیاب نہیں تھا اور وہ کتابیں پڑھتے تھے۔ کتابیں کیا ہوتی ہیں!! یہ بتانا میرے لئے بہت مشکل ہے۔ میں نے کبھی کتاب دیکھی ہی نہیں۔ آپ نے دیکھی ہو تو ضرور بتائے گا۔
مجھے تو یہی سوچ کر ہنسی آتی ہے اور حیرت بھی ہوتی ہے کہ آپ کرسی میز کا اہتمام کر کے ایک کمپیوٹر نامی مشین کے سامنے گھنٹوں بیٹھے رہیں جیسے سزا لگی ہو۔
3 Responses to “عدم سوچ کا دھارا”
Trackbacks/Pingbacks
Leave a reply
Press CTRL+SPACE BAR to toggle between languages.
زبان کي تبديلي کيلئے کنٹرول اور پھر اسپيس بار دبائیں
یہاں اردو لکھنے کے لیے فونیٹک کی بورڈ استعمال ہو رہا ہے۔

شعیب صفدر
Commented on
July 28th, 2008 at 7:45 pm
اچھا!
خوب
شعیب صفدر’s last blog post..Hello world!
افتخار اجمل بھوپال
Commented on
July 28th, 2008 at 9:18 pm
آپ جس مشین پر ہنس رہے ہیں اگر وہ نہ ہوتی تو آج آپ کے پاس سُپر سلیٹ بھی نہ ہوتی ۔ میرا مارچ 1983ء میں اس سے ملتی جلتی مشین کے ساتھ تفصیلی تعارف ہوا اور 1985ء میں میرا ناتا اس سے بطور جنرل منیجر جوڑ دیا گیا ۔ اس کی یاد داشت کا حجم 50 ایم بی تھا ۔ ہارڈ ڈرائیو ڈھائی فٹ اونچی ۔ دو فٹ لمبی اور ڈیڑھ فٹ چوڑی تھی ۔ اس میں ٹیپ چلتی تھی جہاں سے بعد میں ڈاٹا 12 انچ کی فلاپیوں پر منتقل کیا جاتا تھا
ایک بات آپ بھول رہے ہیں کہ اس زمانے کے لوگ حساب میں بہت تیز تھے کیونکہ حساب انہیں اپنے دماغ سے کرنا پڑتا تھا
افتخار اجمل بھوپال’s last blog post..پھر نتھی کر دیا
Arif
Author Comments
July 29th, 2008 at 1:47 pm
شکریہ شعیب
اجمل انکل آپ اس قدیم مشین کے قدیم تر ورژن کے بارے میں کچھ لکھتے کیوں نہیں۔ کافی دلچسپ مضمون رہے گا۔