Jun
27
2008
نئے فوجی آپریشن کے مشتبہ مقاصد، حمایت کی جائے؟
قبائلی علاقوں کے بارے میں پچھلے چند روز سے سامنے آنے والی خبریں دیکھنے کے بعد جی چاہتا ہے کہ راشن ذخیرہ کرکے گھر میں بیٹھ جائیں اور گھر بھی بلاسٹ پروف ہونا چاہئے۔ خبریںیہ ہیں کہ حکومت سرحد اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کے لیے تُل گئی ہے اور خدشات یہ ہیں اس کا ردعمل ہوگا۔ سوال یہ ہے کہ آپریشن کا مقصد کیا؟
چند روز قبل وزیراعظم کی زیر صدارت اجلاس میں قبائلی علاقوں کی صورتحال پر کچھ فیصلے کیے گئے جن میں سے ایک یہ تھا کہ غیرملکی جنگجوؤں کو وہاںسے نکالا جائے گا۔ پھراس اجلاس کے فوراَ بعد انگریزی اخبار ڈان نے خبر میں تاثر دیا کہ طالبان پشاور پر قبضہ کیا ہی چاہتے ہیں۔ اور اب جمعہ کو آرمی چیف نے اسی معاملے پر صدر سے ملاقات کی۔ اس کے ساتھ ہی مشیر داخلہ رحمان ملک نے کہا کہ آپریشن چند روز میں شروع ہو جائےگا۔
بظاہر یہ آپریشن امن معاہدوں کے باوجود جاری ’’شرپسندی‘‘ کے ردعمل میں کیا جا رہا ہے۔ میڈیا میں تاثر قائم ہوچکا ہے کہ طالبان اب حد سے آگے بڑھ رہے ے ہیں لہٰذا انہیں روکنا مجبوری ہوگی۔ اس پیش منظر کے پس منظر میں امریکہ کی وہ بے چینی ہے جو پاکستان میں امن قائم ہونے کے بعد افغانستان میں امریکی و نیٹو افواج پر حملے بڑھنے کے بعد پیدا ہوئی ہے۔ جب تک پاکستان میں خودکش حملوں سے محاذ گرم تھا افغانستان میں غیرملکی افواج چین کی بانسری بجھا رہی تھیں۔ اب طالبان ان کی اینٹ سے اینٹ بجا رہے ہیں۔
طالبان کی متوازی حکومت بلاشبہ ختم ہونی چاہئے لیکن یہ سوال بھی قابل غور ہے کہ طالبان کو اتنا ابھرنے کس نے دیا کہ انتظامیہ بے بس دکھائی دینے لگے۔ طالبان کے انتہائی طاقتور ہونے کا تاثر قائم کرنے میںاہم کردار حالیہ دنوں سوات اور دیگر علاقوں میں ہونے والی کارروائیوں کا ہے جن میں لوگوں کا بڑا نقصان ہوا اور حکومت کچھ نہ کر سکی۔ جمعہ کو باجوڑ ایجنسی میں طالبان نے اپنے دو سابق ساتھیوں کو ہزاروں افراد کے سامنے جاسوسی کے الزام میںمار ڈالا ان میں سے ایک کا گلہ کاٹا گیا۔ان واقعات کے بعد حکومت اس بات میں حق بجانب تصور کی جائے گی کہ وہ ’شرپسندوں‘ کے خلاف بڑے پیمانے پر طاقت کا استعمال کرے۔ اس سے قبل حکومت پر معاملے کو سیاسی طریقے سے حل کرنے کیلئے عوامی دباؤ تھا۔
اگرچہ وزیراعظم کی زیرصدارت منعقد ہونے والے اجلاس میں کہا گیاتھا کہ فوجی آپریشن آخری آپشن ہوگا لیکن تاثرملا کہ یہی پہلا آپشن ہے اور اجلاس کے ایک روز بعد ایک اخبار میں شائع کارٹون میں حکومتی آپشنز کی فہرست دکھائی گئی جس میں پہلے نمبر پر ’فوجی آپریشن آخری آپشن‘ لکھا ہوا تھا۔ طالبان کی نئی کارروائیوں کے بعد حکومت کو کھل کر آپریشن کا نام لینے میں دیر نہیں لگی۔
امریکی کی بے چینی کے ساتھ جوڑ کر دیکھیں تو قبائلی علاقوں میں حالیہ کارروائیاں کسی طے شدہ منصوبے کا حصہ ہی لگتی ہیں۔ غالباَ طالبان کو اتنی ڈھیل دینے کا مقصد ہی یہی تھا کہ ایک بار ان کے خلاف بڑے پیمانے پر کارروائی کا جواز مل سکے۔ اسی طرح کا جواز لال مسجد آپریشن کیلئے تیار کیا گیا تھا۔ پھر کیا ہوا سب نے دیکھا۔ کہنے والوں کا کہنا ہے کہ لال مسجد کا مسئلہ ایک تھانیدار بھی حل کر سکتا تھا اسے خواہ مخواہ بڑھاوا دیا گیا۔
میری رائے میں اس وقت بھی طالبان کو روکنا کچھ زیادہ مشکل کام نہیں اور اس کے لیے طاقت کا ضرورت سے زیادہ استعمال غلط راست ہوگا۔ ہاںاگر ہم پرائی آگ اپنے گھر میں لانے کا پرانا شوق پورا کرنا چاہیں تو پھر سب جائز ہے۔
3 Responses to “نئے فوجی آپریشن کے مشتبہ مقاصد، حمایت کی جائے؟”
Trackbacks/Pingbacks
Leave a reply
Press CTRL+SPACE BAR to toggle between languages.
زبان کي تبديلي کيلئے کنٹرول اور پھر اسپيس بار دبائیں
یہاں اردو لکھنے کے لیے فونیٹک کی بورڈ استعمال ہو رہا ہے۔

محمد شاکر عزیز
Commented on
June 28th, 2008 at 1:52 am
چار ماہ کے سکون کے بعد پھر سے خودکش حملوں کی نئی سیریز کے لیے تیار رہیں۔ لاہور، اسلام آباد، روالپنڈی، پشاور اور خصوصًا ان شہروں کی چھاؤنیاں۔۔۔۔
ساجداقبال
Commented on
June 29th, 2008 at 10:31 pm
بالکل جی زخیرہ کر کے اب تسبیح پھیریں۔
راشد کامران
Commented on
June 30th, 2008 at 5:32 pm
بین الاقوامی دباؤ کے باوجود جب بھی کوئی بھی حکومت شدت پسندوں سے بات چیت کرنے کی کوشش کرتی ہے اسطرح کا ردعمل سامنے آنا شروع ہوجاتا ہے۔ اسکو یہودی سازش کہہ کر جان چھڑا ئی جاسکتی ہے لیکن طالب حضرات بھی کچھ کم نہیںاور اپنے ایجاد کردہ دین کے نفاذ سے کم کسی چیز پر راضی نظر نہیںآتے ۔۔ یوں کہہ لیںکے مشرقی اور مغربی تہذیب کی انتہاؤں کا ملاکھڑا چل رہا ہے اور پہلوانوں کو تو کوئی خاص نقصان نہیں پہنچ رہا لیکن انکے زمین پر بار بار گرنے سے پورا میدان بنجر ہوگیا ہے۔ خطرہ یہ ہے کے اپنی عراق میں گرتی ہوئی ساکھ کا بدلہ امریکہ یہاںپاکستان اور افغانستان کی سرحدوںپر تیز رفتار کامیابیاں دکھا کر نہ پورا کرے۔۔ کیونکہ ہمارے وزیر دفاع تو کہہ چکے ہیں کے بیس ہزار فٹ بلندی سے گرنے والی چیزوںسے دفاع کا اس دفاعی ملک کے پاس کوئی انتظام نہیں۔
راشد کامران’s last blog post..اب کسے ٹیگوں ؟