اگر کوئی آپ سے پوچھے کہ تناؤ کم کرنے کیلئے پاکستان میں‌ کون سی جگہ سب سے موزوں ہے تو انعام جتوانے کے قابل درست جواب صرف ایک ہی ہوسکتا ہے : پارلیمنٹ ہاؤس۔

اس ایوان کے ایوان زیریں‌ یعنی قومی اسمبلی میں جمعہ کو حکومتی اور اپوزیشن اراکین نے خوب قہقہے لگائے اور کئی خوبصورت الفاظ دیر تک زیر غور و زیر بحث رہے۔ رائے شماری کرائی جاتی تو لفظ ’’چالو‘‘ یقیناَ سب سے عمدہ قرار پاتا۔ چوں کہ یہ لفظ پاکستان کی پارلیمنٹ جیسے مقدس ادارے میں‌ استعمال ہوچکا ہے اس لیے یہاں‌ اس لفظ کے استعمال پر کسی بھی شخص کو اعتراض نہیں‌ ہونا چاہئے۔

Bushra Rehman, PML-Q MNAہوا کچھ یوں‌ کہ مسلم لیگ (ق) کی خاتون رکن اسمبلی بشریٰ رحمن اسمبلی میں‌اظہار خیال کے دوران ایک موقع پر کہا کہ پیپلز پارٹی کے رہنما خورشید شاہ کا تخلص ”بے چین“ ہے کیونکہ یہ ہر وقت بے چین پھرتے ہیں۔ ایک موقع پر انہوں نے کہا کہ خورشید شاہ نے لفظ ”چالو“ استعمال کیا، وہ اس کا مطلب بتائیں اور یہ بھی بتائیں کہ انہوں نے ”چالو“ کس کو کہا ہے۔
انہوں نے کہا کہ میں یہاں ادیبوں کی نمائندگی کرتی ہوں اس لئے زبان و بیان کے نقائص دور کرنا میرا فرض ہے۔

بشریٰ رحمان نے سپیکر سے یہ بھی کہا کہ کہا کہ خورشید شاہ مجھے ”فریادی“ نظروں سے دیکھ رہے ہیں اور مجھے چھیڑتے ہیں اور آپ ان کو روکتے بھی نہیں جس پر ڈپٹی سپکر نے کہاکہ آپ میری طرف دیکھیں تو وہ آپ کو نہیں چھیڑیں گے۔

اسپیکر نے کہا کہ آپ وائنڈ اپ کریں جس پر بشریٰ رحمن نے برجستگی سے جواب دیتے ہوئے کہا کہ ”کس کو وائنڈ اپ کروں“۔ میں مدارس کی بات کر رہی ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کی طرف سے ہر کوئی کہتا ہے کہ سب کیا دھرا ”ہمارا“ ہے۔ اگر سب کیا دھرا ہمارا ہے تو یہ کیا کر رہے ہیں۔

بشریٰ رحمن کے ایک شعر پر ارکان نے انہیں زبردست داد دی اور ”مقرر، مقرر“ اور ”ارشاد، ارشاد“ کی آوازیں بلند کیں۔

بشریٰ رحمن کی تقریر کے بعد وفاقی وزیر سید خورشید شاہ بحث سمیٹنے کیلئے آئے تو ارکان نے مطالبہ کیا کہ بشریٰ رحمن کے سوالوں کا جواب دیں اور شعر بھی پڑھیں۔ اس پر سید خورشید شاہ نے کہا کہ بشریٰ رحمان کہہ رہی تھیں کہ میں انہیں ”فریادی“ نظروں سے دیکھ رہا ہوں۔ میں کہتا ہوں کہ وہ میری فریاد سن لیں“
خورشید شاہ نے غالب کا ایک پڑھا تو بشری رحمن نے کہا کہ خورشید شاہ نے میرے لئے غلط شعر پڑھا ہے۔ بجٹ کے بعد میں اس پر تحریک لاؤں گی۔

اور اب ایک اور دلچسپ بات۔ قومی اسمبلی کی اسپیکر نے بشریٰ‌ رحمان کے کئی طنزیہ جملے ایوان کی کارروائی سے حذف کردیئے تھے۔ حذف شدہ جملے میڈیا میں‌ رپورٹ نہیں‌ کیے جاسکے لیکن سرکاری خبررساں‌ ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس آف پاکستان (اے پی پی) نے یہ جملے اپنی خبر میں‌ جاری کردیئے۔