Aug
9
2008
مواخذہ : بدلتے گول پوسٹ
پرویز مشرف کا مواخذہ ہورہاہے، کیوں ہو رہا ہے؟ مسلم لیگ (ق) کہتی ہے صدر نے اسمبلیاں توڑیں تو اس اقدام کی حمایت نہیں کرے گی، کیوں بھئی اچانک اصول پرستی کیسے یاد آگئی؟ یہ ماجرا ہے کیا! کچھ وقت پہلے تک تو پیپلز پارٹی کو لگتا تھا کہ مواخذہ سے ملک غیرمستحکم ہوسکتا ہے، اب اچانک کیا ہوا؟
مواخذہ عوام کو مطمئن کرنے کیلئے نہیں ہورہا نہ میاں نواز شریف کی تسکین کیلئے ہورہا ہے۔ درست کہ میاں صاحب پرویز مشرف سے پرانا حساب بے باق کرنا چاہتے تھے لیکن اگر صدر مملکت پیپلز پارٹی کی غیرمقبول حکومت کو اڑانے کا خواب نہ دیکھتے تو کوئی ان کا بال بیکا نہیں کرسکتا تھا۔ مولانا فضل الرحمان کی یہ ”منطق“ شریک چیئرمین کو پسند آگئی تھی کہ ایک غیرمقبول صدر اسمبلیاں توڑنے کی حرکت نہیں کرے گا۔ لیکن بدقسمتی یہ کہ جیسے ہی حکومت غیرمقبول ہوئی، صدر صاحب کے ملکی حالات پر ”تشویش“سے بھرے بیانات آنے لگے، جنہوں نے زرداری ہاؤس میں تشویش کی لہر دوڑا دی اور اب یہ تشویش واپس ایوان صدر منتقل ہوگئی ہے۔ مواخذہ ہورہا ہے، عوام کیلئے نہیں۔ گول پوسٹ بدلے ہیں حکومت بچانے کیلئے۔
مسلم لیگ (ق) صدر کی پرانی اتحادی تھی، پھر ہفتہ کو اس کے رہنماؤں نے جو پینترا بدلا وہ کیا کہانی سنتا ہے۔ چوہدری شجاعت اور ق لیگ کے سیکرٹری جنرل مشاہد حسین نے اسمبلیاں توڑنے کی مخالفت کا اعلان کیا۔ مشاہد کہتے ہیں صدرگھر جائیں یا مواخذے کا ڈٹ کر مقابلہ کریں۔ یہاں تک کہ صدر کے ایک اور دیرینہ حامی شیرافگن نے کہہ ڈالا کہ آئین کی سنگین خلاف ورزی پر صدر کا مواخذہ ہوسکتا ہے۔ شیرافگن صاحب آئین کی یہ کیسی تشریح کرنے لگے اس سے قبل تو ان کی تشریح ہمیشہ صدر کے مخالفین کو چت کر دیتی تھی۔ گول پوسٹ یہاں بھی بدلے ہیں۔ وجوہات اتنی جلدی سامنے نہیں آئیں، لیکن یہ سب بے سبب تو نہیں ہوسکتا۔ شنید ہے کہ مواخذے کی حمایت کے بدلے ایم کیو ایم کو کچھ پیشکشیں ہورہی ہیں، ہوسکتا ہے مواخذہ کامیاب بنانے کے صلے میں Queue لیگیوں کوبھی کچھ مل جائے۔
ایک بار پیپلز پارٹی حکومت کے سر پر لٹکتی تلوار ہٹ گئی تو پھر کھل کھیلیں گے۔
کدھر جائے گا سیلاب بلا صدر کے بعد

Leave a reply
Press CTRL+SPACE BAR to toggle between languages.
زبان کي تبديلي کيلئے کنٹرول اور پھر اسپيس بار دبائیں
یہاں اردو لکھنے کے لیے فونیٹک کی بورڈ استعمال ہو رہا ہے۔