Jul
27
2008
لکھنا مشکل کیوں!
کئی دنوں سے بلاگ پر کوئی تحریر نہیں لکھی، وجہ! جب بھی لکھنے بیٹھنا ملک کے حالات حاضرہ ہی ذہن پر سوار تھے اور ان پر لکھ کر اپنی اور دوسروں کی مایوسی میں اضافہ کرنا مناسب نہ لگا۔
حکومت کو کوسنے سے حاصل کیا۔ حالات حاضرہ کو دیکھ کر پریشان ہونے سے کیا فائدہ۔ کوئی ایک آدھ مسئلہ ہو تو اس پر لکھا بھی جائے۔ اوریا مقبول جان رونامہ ایکسپریس کے کالم نگار ہیں۔ آج اتوار 27جولائی 2008کے کالم میں انہوں نے اس وجہ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے حالات کیوں نہیں بدلے۔
اس کالم کا خلاصہ بیان کیا جائے تو اوریا مقبول کا کہنا تھا کہ ہم نے ظالم کا ہاتھ روکنے کی کوئی کوشش نہیں کی اس لیے ہم ظالم کا ساتھ دینے کے گناہ کے مرتکب ہوئے اور اسی سبب ہم پر عذاب آیا ہے۔
ایسے ہی کالم جاوید چوہدری بھی لکھ چکے ہیں۔ کاش یہی کالمز اس وقت لکھے گئے ہوتے جب ظالم کا ظلم عروج پر تھا۔
2 Responses to “لکھنا مشکل کیوں!”
Trackbacks/Pingbacks
Leave a reply
Press CTRL+SPACE BAR to toggle between languages.
زبان کي تبديلي کيلئے کنٹرول اور پھر اسپيس بار دبائیں
یہاں اردو لکھنے کے لیے فونیٹک کی بورڈ استعمال ہو رہا ہے۔

Faisal
Commented on
July 28th, 2008 at 7:26 am
لکھنا تو میرے لیے بھی انتہائی مشکل ہوتا جا رہا ہے، بلاگ پر بھی اور اپنی تعلیم کی سلسلے میں بھی۔
لیکن میرے خیال میں پیشہ ور کالم نگاروںکیطرح لکھنے سے بہتر ہے کہ بندہ نہ لکھے۔ یہ کالم نویس حضرات چند سطور لکھ کر اپنے گناہ بخشوا لیتے ہیں کیا؟ بس فرض پورا ہو گیا؟
ہمارے حالات کا تعلق جہاں تک ہے تو یہ ایک دن کی نہیں کئی صدیوں کی بات ہے، اور اقوام کی زندگی میں تو اس سے بھی برا وقت آیا ہے۔ ویتنام کو ہی دیکھ لیجئے۔ ہم تو ہونی جو اب تک ٹالتے ہی رہے ہیں۔ یہ امتحان پاس ہو گیا تو اچھی بات ورنہ شاید ہمیںقوم کہلوانے کا حق ہی نہیں تھا۔
Arif
Author Comments
July 28th, 2008 at 2:18 pm
فیصل میرے بلاگ پر آپ کو خوش آمدید
میں آپ کے خیال سے اتفاق کرتا ہوں۔ معیاد مقدار سے بہتر ہے۔