کئی دنوں سے بلاگ پر کوئی تحریر نہیں لکھی، وجہ! جب بھی لکھنے بیٹھنا ملک کے حالات حاضرہ ہی ذہن پر سوار تھے اور ان پر لکھ کر اپنی اور دوسروں‌ کی مایوسی میں‌ اضافہ کرنا مناسب نہ لگا۔

حکومت کو کوسنے سے حاصل کیا۔ حالات حاضرہ کو دیکھ کر پریشان ہونے سے کیا فائدہ۔ کوئی ایک آدھ مسئلہ ہو تو اس پر لکھا بھی جائے۔ اوریا مقبول جان رونامہ ایکسپریس کے کالم نگار ہیں۔ آج اتوار 27جولائی 2008کے کالم میں انہوں‌ نے اس وجہ کو بیان کرنے کی کوشش کی ہے کہ ہمارے حالات کیوں نہیں‌ بدلے۔

اس کالم کا خلاصہ بیان کیا جائے تو اوریا مقبول کا کہنا تھا کہ ہم نے ظالم کا ہاتھ روکنے کی کوئی کوشش نہیں‌ کی اس لیے ہم ظالم کا ساتھ دینے کے گناہ کے مرتکب ہوئے اور اسی سبب ہم پر عذاب آیا ہے۔

ایسے ہی کالم جاوید چوہدری بھی لکھ چکے ہیں۔ کاش یہی کالمز اس وقت لکھے گئے ہوتے جب ظالم کا ظلم عروج پر تھا۔