عدالت سے محروم چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری منگل کو کراچی پہنچے تو پچھلی دفعہ کے برعکس کسی سیاسی جماعت نے ان کی راہ میں رکاوٹیں‌ کھڑی کرنے کی کوشش نہیں کی لیکن رکاوٹیں‌ پھر بھی پیدا ہوگئیں اور چیف جسٹس کا پروگرام متاثر ہوا۔

جسٹس افتخار ایئرپورٹ سے روانہ ہوئے تو ان کی گاڑی سکھر بار ایسوسی ایشن کے صدر امداد اعوان چلا رہے تھے، جنہیں‌ دل کا دورہ پڑا اور کچھ دیر بعد وہ اسپتال میں انتقال کرگئے۔ (انا للہ و انا الہ راجعون ) اس ناگہانی موت کی وجہ سے چیف جسٹس کے استقبالی قافلے کو اپنا پروگرام مختصر کرنا پڑا اور وہ سست رفتاری سے مارچ کرنے کے بجائے تیزی سے شارع فیصل کو طے کرتا ہو پرل کانٹی نینٹل ہوٹل پہنچ گیا۔

اس کے بعد لائرز کلب میں‌ چیف جسٹس کے اعزاز میں عشائیہ رکھا گیا تو بارش ہوگئی اور جسٹس افتخار تقریب میں شریک نہ ہوسکے۔

جانے اور کیا رکاوٹیں‌ ہوں‌ گی۔

جسٹس افتخار کے کراچی پہنچنے پر ان کے استقبال کیلئے آنے والوں کی تعداد بھی توقع سے کم تھی اور اس پر بھی خوب چہ مگوئیاں‌ ہوئیں۔ لوگ اے این پی اور پیپلزپارٹی کے قبلہ بدلنے پر اظہار افسوس کرتے دکھائی دیئے۔