اسلام آباد میں زرداری ہاؤس میں بدھ کو پیپلز پارٹی کے شریک ڈی فیکٹوچیئرمین اور مسلم لیگ (ن) کے سربراہ میاں‌نواز شریف کے درمیان جب مذاکرات جاری تھے، عین اس وقت ایک نوٹیفکیشن جاری ہوا جس کے ذریعے سندھ ہائیکورٹ کے معزول ججوں میں سے 8کو دوبارہ مقرر کرنے کا حکم شامل تھا۔

اس نوٹیفکیشن کی خبر ملنے پر میاں‌ صاحب روٹھ کر زرداری ہاؤس سے چل دیئے اور جا ٹھہرے پنجاب ہاؤس میں۔ ان کا کہنا تھا کہ مذاکرات کے درمیان یہ نوٹیفکیشن جاری کرکے پیپلز پارٹی نے دھوکہ دیا ہے۔ زرداری صاحب نے (بذریعہ فون) پیچھے سے آوازیں لگائیں اور میاں‌ صاحب کو دوبارہ زرداری ہاؤس بلا ہی لیا۔

اب میاں‌ صاحب کا مطالبہ: نوٹفیکیشن واپس لیں، صدر کے مواخذے کے بعد تمام جج ایک ساتھ بحال ہوں گے۔

زرداری صاحب کا جواب: ججوں‌کی دوبارہ تقرری کا معاملہ ان مذاکرات سے پہلے طے ہوگیا تھا اور اب صدر پرویز مشرف نے سمری اچانک (مذاکرات کے دوران ) منظور کردی ہے تو نوٹیفکیشن ہوا ہے۔ (میرا کوئی قصور نہیں)۔ مواخذے پر جو اتفاق رائے ہوا ہے اسے سبوتاژ کرنے کی سازشیں ہو رہی ہیں۔

میاں‌ جی: نہیں‌ نوٹیفکیشن واپس لیں۔

زرداری صاحب: نہیں لے سکتے پہلے بھی اتنے نوٹیفکیشن واپس لے کر جگ ہنسائی ہوئی ہے، اب ایک اور واپس لیا تو۔۔۔۔۔۔

میاں‌ صاحب پھر روٹھ گئے، اور روٹھے ہی رہے۔

پھر کوئی رات ڈھائی بجے خبر آئی، حکومت نے نوٹیفکیشن واپس لینے کا فیصلہ کرلیا ہے۔

ایک بار بی بی سی کے وسعت اللہ خان نے کہا تھا حکومت اپنے سر پر خود ہی وعدے کا ڈنڈا مارتی ہے اور پھر چوٹ‌ کی شکایت کرتی ہے۔ حکومت کو اب نیا شوق چڑھا ہے ، اپنے گلے میں نوٹیفکیشن کا پھندہ باندھنے اور کھولنے کا۔