انٹرنیٹ کی دنیا میں کئی برسوں سے قائم و دائم خودمختار اردو ویب سائیٹ القمرآن لائن نے جنگ کے نامہ نگار نیر زیدی کی حراست سے متعلق خبریں دیتے ہوئے بدترین پیشہ ورانہ بددیانتی کا مظاہرہ کیا ہے۔ ممکن ہے یہ پہلا مظاہرہ نہ ہو لیکن میری نظری میں پہلی مرتبہ آیا ہے۔

ویب سائیٹ نے نیر زیدی کی حراست اور پھر ان کی گرفتاری کے پس منظر سے متعلق دو خبریں دی ہیں اور دعویٰ کیا ہے کہ یہ دونوں خبریں سب سے پہلے اسی نے شائع کیں(صحافتی زبان میں بریک کیں)۔ جبکہ حقیقت یہ ہے کہ ان دونوں خبروں کا اصل ماخذ امریکی ریاست نیو جرسی کی ویب سائیٹ دیس پردیس ہے جس کے ایڈیٹر ان چیف ارشاد سلیم نے اپنے بلاگ پر پہلی مرتبہ ہفتہ 26جولائی کو نیر زیدی کی گرفتاری کی خبر دی اور پھر 28جولائی کو بتایا کہ نیر زیدی پر ٹین سیکس کے الزامات ہیں۔دونوں مرتبہ القمر آن لائن والوں نے دیس پردیس کے بعد یہ خبریں اپنی سائیٹ پر شائع کیں۔

پہلی مرتبہ ارشاد سلیم کا حوالہ تو دیا گیا لیکن یہ نہیں بتایاگیا کہ خبر ان کے بلاگ سے لی گئی ہے بلکہ تاثر یہ دیا گیا کہ ارشاد سلیم نے القمر آن لائن سے گفتگو کی ہے۔ دوسری مرتبہ تو حد ہی کردی کہ خبر بریک کرنے کا کریڈٹ لینے کی کوشش کرتے ہوئے یہ جملے القمر آن لائن نے اپنے آرٹیکل کا حصہ بنائے۔

خیال رہے کہ اردو ھمعصر ڈاٹ ڈی کے اور القمر آن لائن نے سب سے پہلے نیر زیدی کی گرفتاری اور انہیں پچھلے تین ماہ سے زیر حراست رکھنے جانے کی خبر شائع کرکے قارئین کو حالات سے مطلع کیا تھا اور اب اسی خبر کے حوالے سے اندرون و بیرون پاکستان اخبارات نیر زیدی کے بارے میں خبریں شائع کر رہے ہیں یہاں تک کہ بی بی سی اردو سروس جیسا ادارہ بھی آج پہلی بار نیر زیدی کی حراست بارے لب کشا ہوا ہے حالانکہ نیر زیدی امریکہ میں بی بی سی اردو سروس کے لیے بطور مبصر بھی کام کرتے تھے ۔

پورے مضمون میں ”القمر آن لائن کی رپورٹ کے مطابق” کے الفاظ استعمال کیے گئے ہیں اور دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیراعظم کو نیر زیدی کی حراست کا علم القمر آن لائن اور ]چھوٹے موٹے [”دوسرے اخبارات” میں شائع ہونے والی خبروں سے ہوا ہے۔ زیادہ امکان یہی ہے کہ وزیراعظم کو علم ان ”دوسرے اخبارات” سے ہی ہوا ہو اور یہ قومی روزنامے مانے جاتے ہیں۔

اپ ڈیٹ :

میری اس تحریر کے بعد القمرآن لائن نے اپنے مضامین کو اپ ڈیٹ کردیا ہے اور دیس پردیس کا حوالہ دیدیا گیا ہے۔ جبکہ نصر ملک کا وہ مضمون جس کا ذکر بدتمیز نے ذیل میں اپنے تبصرے میں کیا ہے وہ حذف کردیا گیا ہے۔ یہ اصلاح قابل تحسین ہے۔

اگرچہ اس بات پر میں ایک نئی تحریر لکھ سکتا تھا لیکن یہ مجھے نامناسب معلوم ہوا۔ ملکی اخبارات میں‌ سے بیشتر یہی کرتے ہیں‌کہ جب ان کی خبر پر کوئی کارروائی ہوتی ہے یا تو وہ اس کا کریڈٹ لینے کیلئے اپنے پہلی کی خبر کا عکس فخریہ انداز میں‌ پیش کرتے ہیں۔ میرے خیال میں اس کے بجائے ضمناََ ذکر کردینا کافی ہوتا ہے۔