Feb
13
2008
ویلنٹائن کی کہانی، حقیقت کیا ہے؟
سینیٹ ویلنٹائن تیسری صدی عیسوی میں روم میں رہتے تھے۔ اس وقت روم پر بادشادہ کلاڈیس کی حکمرانی تھی۔ بہت سے لوگ بادشاہ کو پسند نہیں کرتے تھے اور کلاڈیس کو اپنی فوج میں نئی بھرتیوں کی کمی کا سامنا تھا۔ بادشادہ کو محسوس ہوا کہ بیشتر مرد اس وجہ سے فوج میں بھرتی نہیں ہوتے کہ وہ اپنی بیویوں اور بچوں کو چھوڑ کر نہیں جانا چاہتے لہٰذا کلاڈیس نے روم میں شادیوں پر پابندی لگا دی۔
ویلنٹائن اس وقت ایک پادری تھے اور انہوں نے نئے قانون کی مخالفت کرتے ہوئے چوری چھپے نوجوان جوڑوں کی شادیوں کا سلسلہ جاری رکھا۔ ایک رات سینٹ ویلنٹائن پکڑے گئے اور انہیں قید کردیا گیا۔ ویلنٹائن کو سزائے موت سنا دی گئی تھی۔
جیل میں بہت سے نوجوان لڑکے لڑکیاں ویلنٹائن سے ملنے آئے۔ ان میں جیلر یا قید خانے کے ایک محافظ کی بیٹی بھی تھے ۔ ویلنٹائن اور اس لڑکی کو محبت ہوگئی۔ جس روز ویلنٹائن کو سزائے موت دی گئی اس دن انہوں نے اپنے محبوبہ کو لکھا ’’تمہارے ویلنٹائن کی طرف سے پیار‘‘ ۔ روایت کے مطابق یہ 14 فروری 269 عیسوی کا دن تھا اور اسی دن کی یاد میں محبت کرنے والوں کے درمیان پیار بھرے پیغامات کا تبادلہ شروع ہوگیا۔ ’’تمہارے ویلنٹائن کی طرف سے پیار‘‘ والا جملہ آج بھی ان پیغامات کا حصہ ہوتا ہے۔
یہ ویلنٹائن کی وہ کہانی ہے جو مغرب میں بے انتہا مقبول ہے لیکن اس روایت سے ہٹ کر ایک تاثر یہ ہے کہ عیسائی چرچ نے قدیم روم کے غیر عیسائی لپرکالیا فیسٹیول کے متبادل کے طور پر یوم ویلنٹائن منانا شروع کیا۔ قدیم روم میں نیا سال 15 فروری سے شروع ہوتا تھا اور اس کے آغاز پر لپرکالیا فیسٹیول منانا جاتا تھا جو نہ صرف زمین بلکہ عورتوںکی زرخیزی کا دن سمجھا جاتا تھا، اور اس سلسلے میں پادری بکرے کی قربانی دیتے تھے پھر اس کے خون میں ڈبائی گئی پٹیاں عورتیں اس عقیدے سے چھوتیں کہ اس طرح نئے سال میں وہ زرخیز ہو جائیں گی۔ رویت کے مطابق اسی دن روم کی نوجوان لڑکیاں پرچیوں پر اپنے نام لکھ کر انہیں ایک بڑے مرتبان میں ڈالتی تھیں، یہ پرچیاں بعد میں نواجون لڑکے نکالتے اور جس لڑکی کی پرچی ان کے ہاتھ آتی اسی سے ان کی شادی ہوجاتی۔ چرچ کو یہ ’’لاٹری‘‘ سسٹم پسند نہیں تھا اس لیے پوپ گیلاسیس نے 498 عیسوی کے لگ بھگ ہر سال 14 فروری کو سینٹ ویلنٹائن ڈے منانے کا اعلان کیا
1835 میں روم کے سینٹ ویلنٹائن کی مبینہ باقیات پوپ گریکوری نے ایک آئریش پادری جان سپراٹ کے حوالے کردیں۔ جان سپراٹ نے دورہ روم کے دوران اپنے انداز تبلیغ سے پوپ کو متاثر کیا تھا۔ ویلنٹائن کی یہ مبینہ باقیات آئرلینڈ کے شہر ڈبلن میں اب بھی موجود ہیں۔
برطانیہ میں یوم ویلنٹائن کو مقبولیت 17 ویں صدی عیسوی میں ملی۔ 18ویں صدی کے وسط تک دوستوں اور محبت کرنے والوں کے درمیان اس دن پر پیغامات کا تبادلہ عام ہوگیا۔ اس صدی کے اختتام تک ویلنٹائن ڈے کے طباعت شدہ کارڈز سامنے آگئے جو جذبات کا اظہار کا آسان ذریعہ بنے۔ یہ برطانیہ کا وہ دور تھا جب عورتوں مردوں کا گھلنا ملنا زیادہ اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا۔ امریکیوں میں بھی ویلنٹائن ڈے کے پیغامات کا تبادلہ 18 ویں صدی میں شروع ہوا۔
امریکہ کے بعض ایلیمنڑی اسکولوں میں طلبہ سے کہا جاتا ہے کہ وہ اپنی جماعت میں موجود تمام ساتھیوں کو ویلنٹائن کارڈ یا تحفہ دیں۔ یوم ویلنٹائن اب ایک جشن ہی نہیں بہت بڑا کاروبار کا دن بھی ہے۔ رواں سال کینیا، بھارت اور دیگر ممالک سے لاکھوں ڈالر کے سرخ گلاب برطانیہ پہنچے ہیں۔

Leave a reply
Press CTRL+SPACE BAR to toggle between languages.
زبان کي تبديلي کيلئے کنٹرول اور پھر اسپيس بار دبائیں
یہاں اردو لکھنے کے لیے فونیٹک کی بورڈ استعمال ہو رہا ہے۔