cicleoflight

’’سرکل آف لائف‘‘ کا سرورق

رومانس ناول پڑھنا خواتین اور لڑکیوں کی بہت پرانی لت ہے۔ درجنوں ایسی بھی ہیں جنہیں ایسے رومانوی ناول لکھنے کی بیماری لگی ہوئی جن میں ہیرو بس لمبا چوڑا ہوتاہے، اس کے پاس مال و جائیداد کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی اور وہ عام طور پر چاندنی رات میں ضرور باہر نکلتا ہے اور ناول کی ہیروئین اس پر فدا ہوجاتی ہے۔ پڑھنے والیوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ اس کا جواب ذرا دیر بعد۔ یہ بات بھی کم دلچسپ نہیں کہ لکھنے والیاں کن حالات سے گزر کر یہ سب لکھتی ہیں۔

رومانس پڑھنے اور رومانس لکھنے کی بیماری سنگین ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا دائرہ انگلستان کے سرسبز دور افتادہ علاقوں سے لے کر لاہور کی کسی تنگ گلی کے مکان میں بالائی کمرے اور دہلی و ممبئی کے درجنوں گھرانوں تک پھیلا ہوا ہے۔

سنا ہے بھارت میں رومانس ناولوں کے جراثیم کچھ زیادہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اسی لیے  برطانوی پبلشر ملز اینڈ بون نے بھارت میں اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملز اینڈ بون کے ناولوں میں رومانس کی سنسنی خیزی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ ان کے اس فیصلے پر بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے دہلی میں رومانوی ناول پڑھنے والی خواتین کے ایک گروپ سے بات کی۔ ان میں سے ایک خاتون سیما منہوت کا کہنا تھا کہ رومانس ناول پڑھنے سے اچھا محسوس ہوتا ہے بالخصوص ہنسی خوشی اختتام اچھا لگتا ہے۔ لیکن سیما کا یہ بھی کہنا تھا، ایک لڑکی کے لیے رومانس اس کی موت تک ہمیشہ جاری رہنے والی چیز ہے ، یہ اہم نہیں کہ آپ کی عمر کیا ہے آپ ہمیشہ چاہتی ہیں کہ پہلی دفعہ اپنے محبوب یا منگیتر سے ملتے وقت آپ نے رومانس کا جو ذائقہ چکھا تو اس کا تجربہ پھر سے ہو۔

ایک اور خاتون رچنا سری واستو نے کہا کہ آئیڈل مرد کے روپ میں انہوں نے ہمیشہ ایک نائٹ کا تصور کیا ہے جس کی زرہ بکتر چمک رہی ہوتی ہے جو لمبا، گہرے رنگ والا اور ہینڈ سم ہوتا ہے، وہ آتا ہے مجھے نیند سے اٹھاتا اور اور کہیں لے جاتا ہے۔

ایک خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئیڈل مرد سیلف میڈ ہونا چاہئے لیکن اس کی دوست نے فوراً لقمہ دیا کہ لمبا، ہینڈ سم اور پرائیویٹ جیٹ رکھنے کے قابل امیر ہونے کی شرائط بھی برقرار ہیں۔

یہ آرا انگریزی کے رومانس ناول پڑھنے والی خواتین کی تھیں اردو پڑھنے والیوں کی توقعات بھی کچھ کم نہیں۔ پاکستان میں خواتین ڈائجسٹ اور اسی گروپ کے دیگر ماہنامے کرن، شعاع خواتین بھی خاصے مقبول ہیں۔ ایک طرف جہاں مردوں کے لیے ڈائجسٹ شائع کرنے والے جاسوسی ڈائجسٹ گروپ کی اشاعت کم ہو رہی ہے تو خواتین ڈائجسٹ گروپ کی اشاعت میں اضافہ ہی ہو رہا۔

خواتین کے ان پرچوں میں بھی ہیرو خاصا امیر ہوتا ہے کم ازکم اس کا اپنا یا اس کے خاندان کا ایک بنگلہ ضرور ہوتا ہے جس کے لان میں ہیروئین بھی اکیلا پن محسوس کرتے ہوئے چہل قدمی کرنا چاہتی ہے اور وہیں اس کا ہیرو سے ٹکراؤ ہوتا ہے اور ان میں یا تو کچھ شروع ہوجاتا ہے یا پھر اگر کوئی غلط فہمی ہو تو ختم ہوجاتی ہے۔

ہیرو کے پاس کار بھی عموماً ہوتی ہے۔ اگر آپ کچھ پڑھ رہے ہیں اور اس میں بے کار (بغیر کار والا ) ہیرو ہو تو سمجھ لیجئے کہ آگے جا کر اسے واقعی بے کار ہوجانا ہے اور ہیروئین کی شادی کسی ’’اچھے‘‘ گھرانے میں ہوجانی ہے۔ پھر پرانے غریب ہیرو سے یا تو ہمدردی جتائی جائے گی یا پھر اسے ولن بنا دیا جائے گا۔

پاکستان میں اس قسم کے سٹیریو ٹائپ رومانس ناول لکھے جانے کی وجہ یہ ہے کہ لکھنے والی بیشتر خواتین کا تعلق خود غریب گھرانوں سے ہوتا ہے وہ ناولوں میں اپنی حسرتیں نکال دیتی ہیں اور یہ حسرتیں دوسری درجنوں بلکہ سینکڑوں یا ہزاروں لڑکیوں کو چمٹ جاتی ہیں۔ انہیں زندگی بھر ایسے ہیرو کا انتظار ہی رہتا ہے اور پھر مجبوراً ولن سے ہی شادی کرنا پڑتی ہے۔

ڈائجسٹوں کے لیے لکھنے والی خواتین کو معاوضہ بھی کچھ زیادہ نہیں ملتا۔ ایک ناول کے چند سو روپے یا زیادہ سے زیادہ دو تین ہزار تک بات جاتی ہے۔ ہاں البتہ ان میں سے کچھ پرانی قلم کار اب ٹی وی چینلز کے لیے ڈرامے لکھنے کی بدولت خوش حال ہوچکی ہیں۔

انگلستان میں بھی خواتین ناول نگاروں کی حالت زار میں تبدیلی پچھلی صدی میں ہی آئی۔ اس سے پہلے انہیں ناانصافی کاسامنا کرنا پڑتا تھا۔ 1918 میں پیدا ہونے والی میری این ایوانز نے جارج ایلیوٹ کے مردانہ نام سے ناول لکھے۔ وہ ابھی پندرہ سال کی تھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور انہیں گھر بھی سنبھالنا پڑا۔ اس گھٹن زدہ ماحول نے انہیں ناول نگار بنا دیا۔ میری این کا ناول The mill on the floss  ان کی خود نوشت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ان کا واحد ناول ہے جس کا اختتام ہنسی خوشی نہیں ہوتا بلکہ ایک المیے پر ہوتا ہے۔