Feb
24
2008
رومانس ناولوں میں دلچسپی کے پیچھے صنفِ نازک کی کمزوریاں
![]() |
|
’’سرکل آف لائف‘‘ کا سرورق |
رومانس ناول پڑھنا خواتین اور لڑکیوں کی بہت پرانی لت ہے۔ درجنوں ایسی بھی ہیں جنہیں ایسے رومانوی ناول لکھنے کی بیماری لگی ہوئی جن میں ہیرو بس لمبا چوڑا ہوتاہے، اس کے پاس مال و جائیداد کی بھی کوئی کمی نہیں ہوتی اور وہ عام طور پر چاندنی رات میں ضرور باہر نکلتا ہے اور ناول کی ہیروئین اس پر فدا ہوجاتی ہے۔ پڑھنے والیوں کا کیا حال ہوتا ہے؟ اس کا جواب ذرا دیر بعد۔ یہ بات بھی کم دلچسپ نہیں کہ لکھنے والیاں کن حالات سے گزر کر یہ سب لکھتی ہیں۔
رومانس پڑھنے اور رومانس لکھنے کی بیماری سنگین ہونے کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس کا دائرہ انگلستان کے سرسبز دور افتادہ علاقوں سے لے کر لاہور کی کسی تنگ گلی کے مکان میں بالائی کمرے اور دہلی و ممبئی کے درجنوں گھرانوں تک پھیلا ہوا ہے۔
سنا ہے بھارت میں رومانس ناولوں کے جراثیم کچھ زیادہ وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں اسی لیے برطانوی پبلشر ملز اینڈ بون نے بھارت میں اپنا کاروبار شروع کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ ملز اینڈ بون کے ناولوں میں رومانس کی سنسنی خیزی کچھ زیادہ ہی ہوتی ہے۔ ان کے اس فیصلے پر بی بی سی کی ایک نامہ نگار نے دہلی میں رومانوی ناول پڑھنے والی خواتین کے ایک گروپ سے بات کی۔ ان میں سے ایک خاتون سیما منہوت کا کہنا تھا کہ رومانس ناول پڑھنے سے اچھا محسوس ہوتا ہے بالخصوص ہنسی خوشی اختتام اچھا لگتا ہے۔ لیکن سیما کا یہ بھی کہنا تھا، ایک لڑکی کے لیے رومانس اس کی موت تک ہمیشہ جاری رہنے والی چیز ہے ، یہ اہم نہیں کہ آپ کی عمر کیا ہے آپ ہمیشہ چاہتی ہیں کہ پہلی دفعہ اپنے محبوب یا منگیتر سے ملتے وقت آپ نے رومانس کا جو ذائقہ چکھا تو اس کا تجربہ پھر سے ہو۔
ایک اور خاتون رچنا سری واستو نے کہا کہ آئیڈل مرد کے روپ میں انہوں نے ہمیشہ ایک نائٹ کا تصور کیا ہے جس کی زرہ بکتر چمک رہی ہوتی ہے جو لمبا، گہرے رنگ والا اور ہینڈ سم ہوتا ہے، وہ آتا ہے مجھے نیند سے اٹھاتا اور اور کہیں لے جاتا ہے۔
ایک خاتون کا یہ بھی کہنا تھا کہ آئیڈل مرد سیلف میڈ ہونا چاہئے لیکن اس کی دوست نے فوراً لقمہ دیا کہ لمبا، ہینڈ سم اور پرائیویٹ جیٹ رکھنے کے قابل امیر ہونے کی شرائط بھی برقرار ہیں۔
یہ آرا انگریزی کے رومانس ناول پڑھنے والی خواتین کی تھیں اردو پڑھنے والیوں کی توقعات بھی کچھ کم نہیں۔ پاکستان میں خواتین ڈائجسٹ اور اسی گروپ کے دیگر ماہنامے کرن، شعاع خواتین بھی خاصے مقبول ہیں۔ ایک طرف جہاں مردوں کے لیے ڈائجسٹ شائع کرنے والے جاسوسی ڈائجسٹ گروپ کی اشاعت کم ہو رہی ہے تو خواتین ڈائجسٹ گروپ کی اشاعت میں اضافہ ہی ہو رہا۔
خواتین کے ان پرچوں میں بھی ہیرو خاصا امیر ہوتا ہے کم ازکم اس کا اپنا یا اس کے خاندان کا ایک بنگلہ ضرور ہوتا ہے جس کے لان میں ہیروئین بھی اکیلا پن محسوس کرتے ہوئے چہل قدمی کرنا چاہتی ہے اور وہیں اس کا ہیرو سے ٹکراؤ ہوتا ہے اور ان میں یا تو کچھ شروع ہوجاتا ہے یا پھر اگر کوئی غلط فہمی ہو تو ختم ہوجاتی ہے۔
ہیرو کے پاس کار بھی عموماً ہوتی ہے۔ اگر آپ کچھ پڑھ رہے ہیں اور اس میں بے کار (بغیر کار والا ) ہیرو ہو تو سمجھ لیجئے کہ آگے جا کر اسے واقعی بے کار ہوجانا ہے اور ہیروئین کی شادی کسی ’’اچھے‘‘ گھرانے میں ہوجانی ہے۔ پھر پرانے غریب ہیرو سے یا تو ہمدردی جتائی جائے گی یا پھر اسے ولن بنا دیا جائے گا۔
پاکستان میں اس قسم کے سٹیریو ٹائپ رومانس ناول لکھے جانے کی وجہ یہ ہے کہ لکھنے والی بیشتر خواتین کا تعلق خود غریب گھرانوں سے ہوتا ہے وہ ناولوں میں اپنی حسرتیں نکال دیتی ہیں اور یہ حسرتیں دوسری درجنوں بلکہ سینکڑوں یا ہزاروں لڑکیوں کو چمٹ جاتی ہیں۔ انہیں زندگی بھر ایسے ہیرو کا انتظار ہی رہتا ہے اور پھر مجبوراً ولن سے ہی شادی کرنا پڑتی ہے۔
ڈائجسٹوں کے لیے لکھنے والی خواتین کو معاوضہ بھی کچھ زیادہ نہیں ملتا۔ ایک ناول کے چند سو روپے یا زیادہ سے زیادہ دو تین ہزار تک بات جاتی ہے۔ ہاں البتہ ان میں سے کچھ پرانی قلم کار اب ٹی وی چینلز کے لیے ڈرامے لکھنے کی بدولت خوش حال ہوچکی ہیں۔
انگلستان میں بھی خواتین ناول نگاروں کی حالت زار میں تبدیلی پچھلی صدی میں ہی آئی۔ اس سے پہلے انہیں ناانصافی کاسامنا کرنا پڑتا تھا۔ 1918 میں پیدا ہونے والی میری این ایوانز نے جارج ایلیوٹ کے مردانہ نام سے ناول لکھے۔ وہ ابھی پندرہ سال کی تھیں کہ ان کی والدہ کا انتقال ہوگیا اور انہیں گھر بھی سنبھالنا پڑا۔ اس گھٹن زدہ ماحول نے انہیں ناول نگار بنا دیا۔ میری این کا ناول The mill on the floss ان کی خود نوشت سمجھا جاتا ہے۔ یہ ان کا واحد ناول ہے جس کا اختتام ہنسی خوشی نہیں ہوتا بلکہ ایک المیے پر ہوتا ہے۔
8 Responses to “رومانس ناولوں میں دلچسپی کے پیچھے صنفِ نازک کی کمزوریاں”
Trackbacks/Pingbacks
Leave a reply
Press CTRL+SPACE BAR to toggle between languages.
زبان کي تبديلي کيلئے کنٹرول اور پھر اسپيس بار دبائیں
یہاں اردو لکھنے کے لیے فونیٹک کی بورڈ استعمال ہو رہا ہے۔


نعمان
Commented on
February 24th, 2008 at 9:46 am
نہایت عمدہ تحریر ہے۔
میرا خیال ہے کہ پاکستان میں ان ناولوں کے لکھے جانے کی وجہ کسی دوسرے ملک سے ہرگز مختلف نہیں۔ ایسے ہی مردوں کے تھرلر ناول ہوتے ہیں۔ جیسے مثال کے طور پر مظہر کلیم ایم اے کی عمران سیریز یا آئن فلیمنگ کی بانڈ سیریز۔ جہاں ہماری کہانی کا مرکزی کردار جاذب نظر اور خواتین کے لئے حیرت انگیز جنسی کشش کا باعث ہوتا ہے وہیں وہ دلیر، خوش کلام، پرمزاح، بے خوف، ذہین اور پتہ نہیں کیا کیا ہوتا ہے۔
میرے خیال میں یہ ناول ایک اچھا موقع فراہم کرتے ہیں کہ لوگ اپنی دو گھڑی کی معمولی زندگی سے جیمز بانڈ کی غیر معمولی دنیا میں پہنچ جائیں۔
محمد شاکر عزیز
Commented on
February 24th, 2008 at 10:17 am
ایم اے راحت کے ایڈونچر ناول ہوں، مظہر کلیم کی عمران سیریز، ڈائجسٹوں میں شائع ہونے والے سلسلہ وار ناول، دیوتا جیسی دنیا کی طویل ترین کہانی ہو یا خواتین کے لیے لکھے جانے والے ناول سب موضوعات کے ذرا سے فرق کے ساتھ اپنے اردگرد سے دوگھڑی غافل ہونے کے لیے پڑھے جاتے ہیں. تاکہ غم دنیا کو بھلایا جاسکے. مجھ سے زیادہ ان کے بارے میں کون جانے گا جس کے زیر مطالعہ کم از کم درج بھر ڈائجسٹ ہر ماہ آتے ہیں.
محمد شاکر عزیز’s last blog post..دعا
شعیب صفدر
Commented on
February 24th, 2008 at 10:57 am
میں نے دونوں طرح کے ناول پڑھے! رومانوی بھی اور ایڈونچر بھی مجھے دونوں اچھے نہیں لگے!
البتہ روحانی فلسفے والے ناول اچھے لگے مجھے
شعیب صفدر’s last blog post..مشرف کا کالم اور کراچی دھاندلی ویڈیو!!
قدیر احمد
Commented on
February 24th, 2008 at 2:36 pm
اچھی تحریر ہے ، میں بھی عنقریب اس موضوع پر لکھنے لگا ہوں ، اپنے انداز میں
قدیر احمد’s last blog post..بنیاد مضبوط کیجیے
اجمل
Commented on
February 25th, 2008 at 5:14 am
میں نے 15 سال کی عمر سے پہلے اُردو میں نسیم حجازی ۔ اے آر خاتون اور فاطمہ مبین کے سارے ناول اور عمران سیریز کی کئی کتابیں صرف وقت گذارنے کیلئے پڑھے ۔ میں ایسا بے ذوق آدمی ہوں کہ ان میں مجھے سوائے مصنفوں کی حسرتوں کے کچھ نہ ملا ۔ نسیم حجازی صاحب نےچند ناولوں میں سچے واقیات کو رومان خیز بناتے ہوئے حقائق کو مسخ کیا جس کی وجہ سے مجھے ان سے چڑ ہو گئی ۔ میری پسندیدہ کُتب شکار ۔ مہم جوئی کے اصل واقعات اور سائینسی ایجادات کے قصے ہی رہے ۔
اجمل’s last blog post..پٹرول مہنگا ہو تو ؟ ؟ ؟
اجمل
Commented on
February 25th, 2008 at 5:18 am
معذرت
واقیات نہیں واقعات
اجمل’s last blog post..پٹرول مہنگا ہو تو ؟ ؟ ؟
Arif
Author Comments
February 27th, 2008 at 1:36 pm
نعمان، شاکر عزیز، اجمل انکل آپ کی آمد کا شکریہ
قدیر آپ کی تحریر کا انتظار رہے گا۔