Dec
1
2008
بھارت کی طرف سے پاکستان کے خلاف الزامات کا انبار لگائے جانے کے بعد ہفتہ کو اسلام آباد میں پاکستان کے ایک سیکورٹی عہدیدارصحافیوں کے گروپ کو بریفنگ دیتے ہوئے کہا کہ اگر بھارت نے محاذ آرائی کا سلسلہ جاری رکھا اور سرحدوں پر فوج جمع کی تو پاکستان بھی افغانستان کی سرحد پر تعینات اپنے90ہزار فوجیوں کو وہاں سے ہٹا لے گا تاکہ انہیںمشرقی سرحد پر تعینات کیا جاسکے۔ بریفنگ دینے والے عہدیدارکا نام بھی میڈیا میں نہیں آیا لیکن پاکستان کی اس دھمکی کے اگلے ہی روز بھارت کا لب و لہجہ نرم پڑ گیا اور فورآ ہی وضاحت آئی کہ پاکستانی سرحد پر فوج کی نقل و حرکت نہیں ہورہی نہ ہی پاکستان سے جنگ بندی کا معاہدہ ختم کیا جا رہا ہے۔
پاکستان کی دھمکی کے بعد بھارتی رویے میں تبدیلی کیسے آئی اس کا جواب میڈیا کی کسی رپورٹ سے واضح نہیں ہوپائے گا کیونکہ یہ وہ کڑی ہے جو میڈیا میں اب تک رپورٹ نہیں ہوئی اور شاید چند دن میں ہی سامنے آئے۔ فی الحال محض قیاس آرائی ہی کی جاسکتی ہے کہ پاکستان کے انتباہ کے بعد امریکی حکام بھارت پر دباؤ ڈالا ہوگا۔ افغان سرحد پر پاکستانی فوج کی تعیناتی کا مطلب افغانستان میں امریکی افواج کا تحفظ ہے، اگر یہ دستے ہٹا لیے جائیں تو افغانستان میں موجود غیرملکی افواج کے لیے صورتحال انتہائی مشکل ہوجائے گی۔ پاکستانی فوج کی اس اہمیت کے پیش نظر ہی امریکہ کی پوری کوشش ہوگی کہ اسلام آباد کو مغربی سرحد سے فوج ہٹانے پر مجبور نہ ہونا پڑے۔
ہفتہ اور اتوار کو حکومت کی طرف سے بھی کئی مثبت اقدامات سامنے آئے ہیں ۔ ایک جانب جہاں کابینہ کے اجلاس میں ڈی جی آئی ایس آئی کو بھارت نہ بھیجنے کے فیصلے کی تائید کی گئی وہیں دوسری طرف وزیراعظم گیلانی نے ملک کی تمام سیاسی جماعتوں کے قائدین سے رابطے کیے ہیںان میں محمود اچکزئی، عمران خان، شاہد بگٹی اور دیگر رہنماء بھی شامل ہیں۔ وزیراعظم نے2 دسمبر کو قومی سلامتی پر کانفرنس بھی طلب کرلی ہے کانفرنس بلائے جانے پر سب سے پہلا ردعمل تحریک انصاف کا آیا جس کے بیان میں کہا گیا کہ حکومتی پالیسیوں سے اختلافات کے باوجود عمران خان کانفرنس میں شریک ہوں گے۔ اتوار کو سیاسی رہنماؤں نے اپنے بیانات اور پریس کانفرنسز میںبھی قومی یک جہتی کا اظہار کیا۔
عالمی سطح پر صورتحال کو اپنے حق میں ہموار کرنے کی کوششیں بھی جاری ہیں۔ صدر زرداری اور وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے فرانس اور دیگر ممالک کے رہنماؤں سے گفتگو کی جبکہ وزیراعظم گیلانی کی جرمن چانسلر اور جمہوریہ چیک و ترکی کے وزرائے اعظم سے بات ہوئی ہے۔
کراچی میں پچھلے دو روز کے واقعات اگر بھارت کی کارستانی نہیںہیں(جیسا کہ وزیرداخلہ سندھ کا کہنا ہے) تو پھر راوی ہرا ہرا ہی سجھاتا ہے۔ لیکن کسی کو بھی بھارت کے سیاستدانوں کی قابلیت پر شک نہیں ہونا چاہئے۔ ان کی اگلی چال کیا ہوگی اسے سمجھے بغیر پاکستان کو برتری یا برابری حاصل نہیں ہوسکتی۔
Nov
29
2008
سرحد کے اس پار سے تازہ ترین خبر ابھی یہ آئی ہے کہ پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کی بھارت میں تمام مصروفیات منسوخ کردی گئی ہیں اور وہ وطن واپس روانہ ہوگئے ہیں۔ شاہ محمود قریشی نے اس سے پہلے کہا تھا کہ وہ بھارت سے اظہاریکجہتی کے طور پر اپنا دورہ جاری رکھے ہوئے ہیں۔ فوری طور پر یہ واضح نہیں ہوا کہ وزیر خارجہ کی مصروفیات کس نے منسوخ کی ہیں۔ خود انہوں نے یا پھر بھارتی حکام نے انہیں لال جھنڈی دکھائی ہے۔
شاہ محمود قریشی کے باقی دورے کی منسوخی کی اس خبر سے پہلے جمعہ اور ہفتہ کی درمیانی شب رات گئے وزیراعظم ہاؤس سے بیان جاری ہوا کہ آئی ایس ایس کے سربراہ بھارت نہیں جائیں گے بلکہ ان کا نمائندہ بھارت بھیجا جائے گا۔ چند ہی گھنٹے پیشتر وزیراعظم نے اپنے بھارتی ہم منصب موہن سنگھ کی فرمائش( جسے یہاں درخواست لکھاگیا) پر وعدہ کیا تھا کہ وہ آئی ایس آئی چیف کو بھارت بھیج رہے ہیں۔ وزیراعظم کے اس وعدے نے پتہ نہیں کس کس کو چونکایا لیکن نیوز روز میں ہم لوگ ضرور چونکے کیونکہ بقول ہمارے ایک ساتھی کے یہ توآئی ایس آئی چیف کو دہلی ’’طلب‘‘ کرنے والی بات تھی۔
اس خبر سے باقی جو لوگ چونکے ان کی چونکاہٹ کا نتیجہ یہ نکلا کہ وزیراعظم کو کابینہ کا ہنگامی اجلاس بلا نا پڑا۔حالانکہ یہ اجلاس بھارت میں حملوں کی صورتحال واضح ہونے کے فوراً بعد بلایا جانا چاہئے تھا یا کم ازکم بھارت کی طرف سے پاکستان پر الزامات لگنے کے فوراً بعد ہی بلا لیا جاتا تاکہ نئی صورتحال میں پاکستان کے ردعمل سے متعلق فیصلہ کیا جا سکتا اور اس کے بعد ہی کوئی بیان دیا جاتا لیکن بہرحال اجلاس اب ہو رہا ہے۔
اطلاعات یہ بھی ہیں کہ وزیر خارجہ کی وطن واپسی اجلاس میں شرکت کے سلسلے میں ہے تاہم ایک بھارتی صحافی نے پاکستانی ٹی وی کو رپورٹ دیتے ہوئے کچھ یوں بتایا کہ شاہ محمود قریشی پریس کانفرنس میں اپنا دورہ جاری رکھنے کی بات کر رہے تھے کہ اسی وقت انہیں بھارتی ہم منصب پرنب مکھر جی کا فون آگیا، پریس کانفرنس ادھوری رہ گئی اور پھر دورہ منسوخ ہوگیا۔ بھارتی میڈیا نے وزیراعظم گیلانی کی طرف سے آئی ایس آئی چیف بھیجے کی یقین دہانی کو بھی منفی رنگ دیا اور تاثر دیا گیا کہ پاکستان صفائیاں دینے پر مجبور ہے۔
کچھ لوگوں کی رائے ہے کہ بھارت میں دھماکوں کا فال آؤٹ پاکستان پر اس قدر زیادہ ہے کہ اگر حکومت اسے سنبھالنے میں ناکام رہی تو اس کی بقاء خطرے میں ہوگی۔لیکن میرے اپنے خیال میں ابھی ایسے حالات نہیں ہیں کہ حکومت کو کچھ ہو اور امید کی جا سکتی ہے کہ کابینہ کے اجلاس سے معاملات بہتری کی طرف کھسکیں گے۔
Nov
28
2008
ممبئی میں بم دھماکے اور فائرنگ کرنے والوں پر قابو پانے سے بھی پہلے بھارتی حکام نے حسب روایت پاکستان کو موردِ الزام ٹھہرانے کی کوششیں کر رہے ہیں۔ پاکستان کے دو تجارتی بحری جہازوں کو ممبئی میں بھارتی اداروں کی طرف سے قبضے میں لیے جانے کی اطلاعات ہیں اور کہا جا رہا ہے کہ ان میں دہشت گرد وہاں پہنچے تھے جبکہ ساتھ ہی بھارتی حکام کا یہ بھی کہنا ہے کہ دہشت گرد ایک کشتی کے ذریعے آئے۔
پردھان منتری من موہن سنگھ نے قوم سے اپنے خطاب میں کہا کہ دہشت گردوں کے ٹھکانے ’’ملک سے باہر ‘‘ہیں انہوں نے ’’ہمسایہ‘‘ ممالک کو بھی متنبہ کیا اور دھمکی دی کہ دہشت گردوں کو اپنی سرزمین فراہم کرنے والوں کو سبق سکھایا جائے گا۔
جواب میں پاکستان نےکسی سخت ردعمل یا بحری جہازوں کے معاملے پر احتجاج کے بجائے ایک بار پھر نشیب میں کھڑا ہونا پسند کیا اور دبے دبے لفظوں میں کہا جا رہا ہے کہ جانب بغیر ثبوت الزامات تو نہ لگائیں۔
ممبئی دھماکوں کاایک خاص پہلو یہ ہے کہ ان میں ممبئی انسداد دہشت گردی فورس کے سربراہ ہیمنت کرکرے کو لگے ہاتھوں گولی مار کر ہلاک کیا گیا۔ ہیمنت کے ہندو انتہا پسند تنطیموں سے تعلقات خراب چل رہے تھے۔ یہ دھماکے ہندو انتہا پسندوں سے لے کر اچھوتوں جیسا برتاؤ کا سامنے کرنے والے بھارتی مسلمانوں ، زیرعتاب سٹودنٹ اسلامک موومنٹ آف انڈیا(سیمی) کے کارکنوں، آسامی باغیوں اور کشمیری عسکریت پسندوں میں سے کسی کی بھی کارروائی ہوسکتے ہیں اور یہ تمام عناصر بھارت کی داخلہ پالیسیوں کی پیداوار ہیں لیکن الزامات کی توپ ایک بار پھر پاکستان کی جانب داغی جارہی ہے۔
بدھ کو ممبئی میں حملہ شروع ہونے کے لگ بھگ 24 گھنٹے بعد جمعرات کی رات گئے تک چند عسکریت پسندوں کو قابو کرنے میں بھارتی اداروں کی ناکامی نے جہاں ان کی اہلیت پر سوالات اٹھائے ہیں وہاں یہ شبہ بھی پیدا ہوا ہے کہ کیا اس دوران بھارتی ادارے ایسے ’شواہد‘ جائے وقوعہ پر بونے کی کوشش کر رہے تھے جن سے پاکستان پر الزام ڈالنے میں آسانی ہو؟
ماضی میں بھارت میں جب کبھی دہشت گردی کے واقعات ہوئے اس نے پاکستان کے خلاف الزامات کا طوفان کھڑا کردیا اور سیاسی و سفارتی لحاظ سے ہر ممکن ہر تک ’آتنک واد‘ پھیلایا۔ پاکستان کی کمزور خارجہ پالیسی اور قیادت اس کے جواب میں کچھ نہیں کرسکی۔ حد تو یہ ہے کہ اب ایٹمی ہتھیاروں کے پہلے استعمال کا’’ ڈاکٹرئن‘‘ ترک کرنے کی باتیں ہو رہی ہیں حالانکہ پچھلی مرتبہ پارلیمنٹ حملے کے بعد جب بھارت اپنی فوجیں سرحد پر لے آیا تھا تو پاکستانی ایٹمی ہتھیاروں کا لحاظ کرتے ہوئے اسے رکنا پڑا تھا۔
مجھے دو شہہ سرخیاں یاد آرہی ہیں۔ پہلی پرویز مشرف کے حوالے سے بی بی سی نے پارلیمنٹ حملے کے بعد بھارتی brinkmanship پر لگائی تھی اور دوسری پاکستانی رہنماؤں کی کہی مرتبہ دہرائی ہوئی بات ہے لیکن اس پر عمل کم ہی کیا جاتا ہے۔
“Musharraf warns India against any hasty action”
’امن طاقت سے حاصل ہوتا ہے‘‘
کیا ہم تاریخ سے کچھ سیکھ کر معذرت خواہانہ رویہ ترک نہیں کرسکتے، آخر ہمارے شہروں میں ہونے والی دہشت گردی کا ذمہ کوئی دوسرا ملک کیوں نہیں اٹھاتا؟
Nov
8
2008
انگریزی کے معروف شاعر اور نثر نگار ڈی ایچ لارنس اپنے ایک Essay میں کہتے ہیں کہ عورتیں اسی طرز پر زندگی گزارنا چاہتی ہیں جو ان کے مردوں کو پسند ہو لیکن کئی مرد خود کاٹھ کے اُلو ہوتے ہیں اور سمجھ ہی نہیں پاتے کہ انہیں کیسی عورت پسند ہے، کبھی وہ طرح دار خاتون کے دیوانے ہوں گے تو کبھی سادگی پر مر مٹیں گے، اسی الجھن میں وہ بے پیندے کے لوٹے کی طرح ڈگمگاتے پھرتے ہیں ۔
لارنس نے چونکہ Give her a Pattern نامی Essay انگریزی میں لکھا تھا ،اس لیے ان کے جملے اس سے کچھ مختلف تھے جو اوپر لکھا گیا ہے لیکن مطلب بہرحال وہی ہے۔شاعر کے خیالات والی پرواز کے ساتھ نثر میں لکھے ادب کے اس ٹکڑے میں ڈی ایچ لارنس نے مردوں کو یہ مشورہ دیا ہے کہ وہ اپنی عورتوں کو ایک طرزِ زندگی مہیا کریں ، وہ اس پر ہنسی خوشی جی لے گی۔ لیکن خود ہی اُن کا یہ بھی کہنا ہے کہ مرد کسی ایک طرز سے مطمئن نہیں ہوتے۔ ہوسکتا ہے کہ ایک عورت خود کو اس سانچے میں ڈال دے جو اس کے رفیق کو پسند ہے لیکن عین اس وقت جب یہ سانچہ کھلتا ہے اور اندر رکھی مادھو کی مٹی اپنے پکنے پر نہال ہورہی ہوتی ہے رفیق صاحب کی پسند بدل جاتی ہے اور وہ کسی نئے ستارے پر کمند ڈالنے چل پڑتے ہیں۔
پھر وہی یعنی خیال لارنس کا الفاظ اُردو کے۔ انگریزی کے اس مضمون کو اگر آپ اس کی اصلی زبان میں پڑھیں تو اس کے اختتام پر آپ کے ذہن میں خیالات تو بہت سے جمع ہو جائیں لیکن اِن خیالات سے کہیں زیادہ جگہ پریشانی لے لے گی۔ کیونکہ لارنس نے جو نقشہ کھینچا ہے اس کے مطابق مرد کی سیمابی فطرت اس مسئلے کو لاینحل بنا دیتی ہے اور عورت بے چاری پِستی ہی رہے گی خواہ وہ نت نئے سانچوں میں ڈھلنے کی کوشش کرتی رہے۔ کچھ روز ایک رنگ اختیار کرے گی، پھر دوسرا، پھرشوہر کو خوش رکھنے کے لیے(چونکہ ہمارے یہاں مرد محبوب کو نخرے اٹھوانے کی اجازت نہیں ہے اس لیے صرف شوہرکی خوشی کی بات ہو رہی ہے) کوئی نیا روپ بھی اپنا لے گی۔ لیکن ایک دن تھک ہار اس نے یا تو واک آؤٹ کر جانا ہے یا پھرحتمی روپ اختیار لینا ہے جس میں اس کے ہاتھ خالی نہیں ہوں گے۔ ظاہر ہے یہ دونوں صورتیں اس رشتے کے لیے مناسب نہیں، جس کے ٹوٹنے سے مسائل کی ایک ریل گاڑی چھوٹ پڑتی ہے۔
ایسے میں مرد کو یہ مشورہ دینا صائب نہ ہوگا کہ وہ نت نئے پیٹرن مہیا کرتا جائے۔ لیکن یہ بات بھی درست ہے کہ کوئی بھی طرز زندگی مرد کو ہی فراہم کرنا ہوتا ہے۔ وجہ یہ نہیں کہ عورت خود سوچ نہیں سکتی(لارنس بھی عورت کوہوشیار سمجھتے ہیں) بلکہ یہ ہے کہ وہ ایسی بڑی چیزوں کی ذمہ داری قبول کرنے سے کتراتی ہے۔ زندگی کیسے گزارنی ہے اس کا فیصلہ بالآخر کاٹھ کے الو کو ہی کرنا ہوتا ہے تاکہ اگر کوئی گڑ بڑ ہوتو سارا الزام بھی اسی پر ڈالا جاسکے۔ نئے زمانے میں بہت سی لڑکیاں خود یہ کہتی پائی گئی ہیں کہ ’’عورت ناقص العقل ہوتی ہے‘‘ ، یہ دراصل ان کی عقل کی دلیل ہے کہ وہ کسی صورت موردِ الزام نہیں ٹھہرنا چاہتیں۔
بہر حال بنیادی مسئلہ پیٹرن کا ہے۔ اور اس کی فراہمی کا بار چونکہ مرد پر لاد دیا گیا ہے تو یہاں ایک مشکل کو کافی آسان طریقے سے سلجھایا جا سکتا ہے۔ کونسا طرز زندگی اچھا ہے اور کونسا برا اسے ثابت کرنا آسان نہیں جب تک کہ ہم دونوں طرز کی زندگی جی نہ لیں اور اصلی زندگی میں ایسے تجربات کی گنجائش کم ہی ہوتی ہے۔ لہٰذا آسان حل۔۔
اپنے گھر کے لیے وہ طرز زندگی منتخب کیا جائے جس کی ساری گائیڈ لائنز اللہ تعالی نے اپنی کتاب میں رکھ دی ہیں اور جس کے عملی نمونے حضرت محمد صلی اللہ و علیہ وسلم نے فراہم کردیئے ہیں۔ یہ پیٹرن صرف عورت کے لیے نہیں بلکہ خود مرد کے لیے بھی ہے۔ اس طرح وہ نت نئی خواہشات کے پیچھے بھی نہیں بھاگے گا۔
Oct
27
2008
طالبان نے سرعام لشکر کے ایک رکن کا سرقلم کیا۔ان کے کمانڈر ملاشمشیر کا کہنا تھا یہ طالبان کی مخالفت کرنے والے دوسرے لوگوں کیلئے ’نشان عبرت‘ہے، تبھی لڑائی شروع ہوگئی، شمشیر سمیت 20 طالبان اور 10دیگر مارے گئے، پولیس حکام
صوبہ سرحد کے ضلع سوات میں اتوار کے روز وہ ہوا جس کے ہونے کا خدشہ کئی دنوں سے مختلف سیاسی رہنما ظاہر کر رہے تھے۔ چھوٹے پیمانے پر ہی سہی یہ ایک ہولناک خانہ جنگی سے کم نہیں تھا اور واقعے کی پوری جزئیات سامنے آنے میں تو شاید کچھ دیر ہے تاہم رات گئے تک جتنی تفصیل سامنے آئی وہ کچھ کم لرزا خیز نہیں۔
اطلاعات کے مطابق سوات کے تحصیل مٹہ میں اتوار کو مقامی طالبان نے جرگے کی طرف سے تشکیل دیئے گئے لشکر کے سربراہ پیر سمیع اللہ کو ان کے چند ساتھیوں سمیت اغوا کرلیا اور انہیں ایک گاڑی میں ڈالنے کے لیے لے جارہے تھے کہ مقامی لوگوں نے دھاوا بولتے ہوئے پیر سمیع اللہ کو عسکریت پسندوں سے چھڑا لیا۔
علاقائی پولیس افسر دلاور بنگش کے مطابق کچھ دیر میں درجنوں طالبان علاقے میں پہنچ گئے اور انہوں نے لشکر کے تین اراکین کو پکڑلیا اور سڑک پر لوگوں کے سامنے ان میں سے ایک کا سرقلم کردیا گیا۔ سرقلم کرتے وقت طالبان کمانڈر ملاشمشیر نے کہا کہ یہ طالبان کی مخالفت کرنے والوں کے لیے عبرت ہے۔
لیکن مقامی افراد دہشت زدہ ہونے کے بجائے مشتعل ہوئے اور انہوں نے اردگرد سے لوگ جمع کرکے طالبان پر حملہ کردیا جس کے بعد کئی گھنٹے کے لیے لڑائی چھڑ گئی۔ اس لڑائی میں ملاشمشیر بھی ہلاک ہوگئے۔ طالبان کے ترجمان حاجی مسلم نے ملا شمشیر سمیت اپنے تین ساتھیوں کی ہلاکت کی تصدیق کی ہے۔مسلم خان کے مطابق لڑائی میں لشکر کے 12 اراکین ہلاک ہوئے۔
دلاور بنگش کے مطابق ملاشمشیر سمیت 20 طالبان واقعے میں ہلاک ہوئے جبکہ لشکر کے 6اراکین اور 4 راہ گیر بھی مارے گئے۔ لشکر کے درجنوں اراکین لاپتہ ہیں۔ حاجی مسلم خان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے 70 کو اغوا کرلیا ہے۔
مٹہ میں یہ لشکر محض تین روز قبل تشکیل دیا گیا تھا اور لشکر کے اراکین نے طالبان کو تین دن کے اندر اندر علاقے سے نکلنےکی وارننگ دی تھی۔ لشکر بننے کی خبر پر فوری ردعمل ظاہر کرتے ہوئے طالبان ترجمان حاجی مسلم خان نے کہا تھا کہ سوات میں طالبان کے خلاف کوئی لشکر نہیں بنا، نہ ہی بن سکتا ہے۔ اتوار کو طالبان نے وہی کچھ ثابت کرنے کی کوشش کی جو مسلم خان نے کہا تھا یعنی سوات میں طالبان کے خلاف کوئی لشکر نہیں پنپ سکتا۔
ایسے ہی لشکر باجوڑ ایجنسی میں بھی تشکیل دیئے گئے ہیں جنہوں نے طالبان کے خلاف کارروائیاں کی ہیں۔ اورکزئی ایجنسی میں لشکر تشکیل دینے کے لیے منعقدہ جرگے پر خودکش حملے میں گزشتہ دنوں 90 کے قریب افراد مارے گئے تھے۔ مہمند ایجنسی سے اطلاعات ہیں کہ وہاں لوگوں نے لشکر بنانے سے انکار کردیا ہے۔
چند برس قبول شمالی اور جنوبی وزیرستان میں لشکروں کی تشکیل کا نتیجہ یہ نکلا کہ ان لشکروں کی حمایت کرنے والے سینکڑوں قبائلی ملک قتل کردیئے گئے۔
لشکروں کی ناکامی کی بڑی وجہ یہ خیال کی جاتی ہے کہ ان کے پاس پرانا اسلحہ ہوتا ہے جبکہ طالبان ’’نادیدہ قوتوں‘‘ کی مدد سے جدید ترین اسلحے سے لیس ہیں۔ اب خبریں آرہی ہیں کہ حکومت پاکستان چین سے اے کے 47 رائفلیں اور دیگر ہتھیار حاصل کرکے لشکروں کو دینے کی تیاری کر رہی ہے۔ اس کے بعد کیا ہوگا سبھی اندازہ کر سکتے ہیں۔
Oct
13
2008
Former Army Chief Gen. (retd) Mirza Aslam Baig has been sharply criticized and branded as one of “so called strategists” by a strange commentator, who managed to get a three columns space on the front page of daily Jang, country’s leading newspaper.
Baig had written a long op-ed piece in the same paper and portrayed the United Sates of America as hostile nation to Pakistan, charging it for conspiring against the country. He went into length to prove that joining the US ‘war on terror’ was a wrong decision for Pakistan, a view held by many people.
The opinion piece is confronted with these comments, published on the front page of Jang, under the name of Mr. Saddiq Saleem, probably one from the government service or a journalist supporter of the government –I don’t know him. But he seems influential enough to get that precious space beneath the lead story.
Mr. Saddiq says Pakistan is no match for the US and “talks of teaching (it) lessons are dangerous.” Considering a world-power as enemy tantamount to invoking “destruction”, he said.
The commentator held the view that Mr. Baig, former ISI head Hameed Gul and Jamat Islami leader Qazi Hussain had wishfully planned “to do same with America what Mujahedeen had done to the Soviet Union” and “Pakistanis wasted their energy” for the whims of these leaders. He hit at the post-cold-war policy of Pakistan.
Saddiq’s comments are as agreeable as they are contentious and they are debatable as well; but they also highlight an interesting fact: government has learnt to counter things on the correct battle ground.
Any one having read the opinion of Mr. Baig would certainly rethink when s/he go through Saddiq’s response.
Oct
10
2008
کراچی اسٹاک مارکیٹ کے بڑے مگر مچھ بالآخر مکافات عمل کی زد میں آگئے۔ جمعہ کو ایک بروکر ڈیفالٹ کرگیااور دیگر کے ڈیفالٹ کا خطرہ پایا جاتا ہے۔ بروکرز اور بڑے اسٹیک ہولڈرز پچھلے کئی دنوں سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ حکومت مارکیٹ کو بچانے کے لیے فنڈز میہا کرے۔ یہی لوگ پچھلے چند برسوں سے ہر قسم کی ’’انجینئرنگ‘‘ کے ذریعے چھوٹے سرمایہ داروں کو ان کی جمع پونجی سے محروم کرتے رہے ہیں۔
اس انجینئرنگ کی سب سے بڑی مثال مارچ 2005 کا کراچی اسٹاک مارکیٹ کا کریش ہے جس میں اپر مڈل کلاس سے تعلق رکھنے والے سینکڑوں افراد کی رقوم ڈوب گئی تھیں۔ پاکستان میں 2004 میں پی پی ایل کے شیئر عام فروخت کے لیے رکھے جانے کے بعد یہ لوگ اسٹاک مارکیٹ کی طرف متوجہ ہوگئے تھے۔ پی پی ایل کے شیئر کی قیمت کچھ ہی عرصے میں جب دگنی سے زیادہ ہوگئی تو اپرمڈل کلاس کا اسٹاک مارکیٹ کی طرف رحجان بڑھا لیکن جب ان عام لوگوں نے مجموعی طور پر بڑے پیمانے پر خریداری کر لی تو مارچ میں اسٹاک مارکیٹ کریش کر گئی ایک ہفتے میں تقریبًا 700 ارب روپے ڈوب گئے اور تجزیہ نگاروں نے اس کریش کو انجنیئرڈ قرار دیا۔ (دیکھئے ڈان)۔
اسٹاک مارکیٹ کے بڑے مگرمچھوں نے باقی ماندہ نسبتاًچھوٹی مچھلیوں کی جلد میں دوبارہ اپنے دانت چند ماہ قبل گاڑھے جب انہوں نے مارکیٹ میں لوئر لاک کی حد کم کردی۔ دنیا کی کئی اسٹاک مارکیٹ میں لوئرلاک ہوتے ہیں تاکہ مارکیٹ حد سے زیادہ نہ گر سکے۔ کراچی اسٹاک مارکیٹ میں یہ لاک پانچ فیصد پر تھے۔ یعنی مارکیٹ پانچ فیصد اوپر جانے پر لاک لگ جاتا تھا اور اسی طرح پانچ فیصد گرنے پر مارکیٹ خودبخود بند ہوجاتی تھی اور مزید شیئرز فروخت نہیں کیے جاسکتے تھے۔ لیکن رواں سال جون میں اسٹاک مارکیٹ کے کرتا دھرتاؤں نے اس میکنیزم میں تبدیلی کرتے ہوئے لوئر لاک کی حد پانچ فیصد سے کم کر کے ایک فیصد کر دی جبکہ اپر لاک 10 فیصد کردیا گیا۔(دیکھئے دی نیشن) اب مارکیٹ ایک فیصد سے زیادہ نیچے آنے کی صورت میں بند ہوجاتی ہے۔ یہ صورتحال تاحال برقرار ہے۔
اسٹاک مارکیٹ انتظامیہ کے اس فیصلے کا نتیجہ یہ ہوا کہ بڑی تعداد میں وہ لوگ جو اپنے شیئر بیچ کر مارکیٹ سے نکل جانا چاہتے تھے پھنس کر رہ گئے اور انہیں نقصان اٹھانا پڑا۔اس فیصلے کا ایک نقصان یہ بھی ہوا کہ سرمایہ کاروں کا اعتماد بری طرح تباہ ہوگیاجو 2005 کے کریش سے پہلے ہی مجروح تھا۔
اسٹاک مارکیٹ کے ’’دادا گیروں‘‘ کا معاملہ یہاں تک ہی محدود نہیں بلکہ نئی حکومت نے جب بجٹ تیار کیا تو اس میں تقریباً 2 ارب روپے کے محصولات کیپٹل گین ٹیکس کی صورت میں حاصل ہونے تھے لیکن ان لوگوں نے جادو کی چھڑی گھما کر اپنے لیے مزید دو برس کے لیے کیپٹل گین ٹیکس کی چھوٹ حاصل کرلی اور محصولات کا بوجھ غریب عوام پر منتقل کردیا۔
اب یہ لوگ فرماتے ہیں کہ حکومت اسٹاک مارکیٹ کو بچانے کے لیے فنڈ قائم کرے۔ کیا یہ مطالبہ منصفانہ ہے؟
Oct
9
2008
As George Bush signed US-India nuclear bill into law on Wednesday he said, it sends a “massage to the world” that countries which follow democracy and adopt responsible behaviour will find United States a friend.
The massage was directed more on Pakistan than any other country. Pakistan, which now bleeds from every part of it for standing to shoulder the US war on terror. The country where Washington always supported dictators; one of them forced nuclear scientist Qadeer Khan to make an on-camera confession for involvement in the alleged proliferation.
The man in power then said he was saving Pakistan, same argument he made when he joined the war on terror. But the confession left a permanent blot on Pakistan non-proliferation record.
Khan did have some contacts with the proliferators; how would he have made the nuclear bomb if he did not. When Indian tested their first nuclear devise in 1974, it was a violation of Delhi’s agreement with Canada. Was that violation a moral thing? Then why deem Qadeer’s contacts illegal. Qadeer says Libya and other countries got the nuclear material from the same sources he did. Apparently his crime was limited to advising other countries where they can find the nuclear related material; proliferators themselves were westerns.
However, the confession forced out from Khan on the TV, put all the blame on Pakistan. Now it’s Pakistan, which stands synonym to proliferation.
Massage from Bush is correct to every letter of it: an undemocratic ruler with his irresponsible behaviour has ruined country’s prospects for growth.
Oct
8
2008
ملکی تاریخ میں تیسری مرتبہ پارلیمنٹ کا بند کمرے میں اجلاس ہو رہا ہے، پچھلے دو اجلاسوں، جن کی اہمیت کا ذکر ذرا دیر میں، کی طرح یہ بھی بہت اہم ہونے کا امکان ہے۔ وزیراعظم یوسف رضا گیلانی نے میاں نواز شریف کے ساتھ ساتھ جماعت اسلامی کے قاضی حسین احمد، تحریک انصاف کے عمران خان اور اے پی ڈی ایم کے کنونیر محمود خان اچکزئی و دیگر کو بھی اس اجلاس میں شرکت کی خصوصی دعوت دی تھی لیکن قاضی حسین احمد، عمران خان اور محمودخان اچکزئی نے اجلاس میں شرکت سے انکار کردیا۔
قانونی لحاظ سے پارلیمنٹ کے بند کمرے کے اجلاس میں محض اس کے اراکین ہی شریک ہوسکتے ہیں۔ ان سیاسی رہنماؤں کو دعوت دے کر پیپلز پارٹی حکومت نے احسن قدم اٹھایا لیکن 18 فروری کے انتخابات کا بائیکاٹ کرنے والے ان تین سیاسی رہنماؤں نے اس اہم اجلاس کا بھی بائیکاٹ کرلیا جس میں شاید خارجہ پالیسی سے متعلق کچھ فیصلے بھی ہوں۔
قاضی صاحب نے اپنی عدم شرکت کا جواز یہ دیا ہے کہ وہ آرمی چیف سے زیادہ جانتے ہیں لہٰذا انہیں کسی بریفنگ کی ضرورت نہیں۔ انہوں نے ٹرین مارچ کو اپنے لیے اہم قرار دیا ہے۔ جماعت اسلامی کے کارکن ٹرین مارچ کے دوسرے مرحلے میں آج لاہور سے ملتان تک جائیں گے۔
بائیکاٹی سیاستدانوں کے اس فیصلے کو یوں بھی دیکھا جاسکتا ہے کہ ان رہنماؤں کے پاس اجلاس میں بات کرنے کیلئے کوئی نکتہ نہیں تھا۔ یا وہ ملک بچانے کو اپنی ذاتی سیاست سے زیادہ اہم سمجھتے ہیں۔ بہتر تو یہی ہوتا کہ یہ رہنما اجلاس میں شریک ہوکر بہتر فیصلوں تک پہنچنے میں پارلیمنٹ کی مدد کرتے اور اپنا مؤقف وہاں بھرپور طریقے سے پیش کرتے۔ اس سے قبل میاں نواز شریف بھی روٹھنے والی سیاست سے نقصان اٹھا چکے ہیں۔ ان کے بار بار روٹھ جانے سے نہ تو جج بحال ہوئے نہ آصف زرداری کی جگہ کسی غیرسیاسی شخصیت کو صدر بنا کر اٹھاون ٹوبی کا خاتمہ کیا جاسکا۔
پارلیمنٹ نے بند کمرے کے پچھلے دو اجلاسوں میں ایک میں قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دینے کا بل منظور کیا تھا۔ دوسرے میں 1988 کے جنیوا سمجھوتے پر پارلیمنٹ کو اعتماد میں لیا گیا تھا۔ یہ سوویت افغان جنگ کے خاتمے پر اہم بین الاقوامی معاہدہ تھا۔
خوش نصیب ہیں وہ ممالک جہاں خارجہ پالیسی کے فیصلے قومی اتفاق رائے سے کیے جاتے ہیں اور اپوزیشن یا حکومت ان معاملات پر غیرضرور طور پر سیاست نہیں چمکاتی۔
Oct
6
2008
ڈان کے ممتاز کالم نگار اور قائد اعظم محمد علی جناح کو ذاتی طور پر جاننے والے توانائی سے بھرپور دبلے پتلے پارسی بوڑھے ارد شیر کاؤس جی سے یقیناَ کافی لوگ واقف ہوں گے۔ ان کا دعویٰ ہے کہ انہوں نے آصف علی زرداری کے ہاتھوں مزار قائد پر مہمانوں کی کتاب میں درج وہ کلمات اپنی آنکھوں سے دیکھے تھے جن میں صدر زرداری نے God اور strength کی سپیلنگ غلط لکھی تھی۔
صدر زرداری سے منسوب ان کلمات کے عکس پر مبنی ای میل پیغام انٹرنیٹ پر آنے کے بعد شور مچ گیا تھا۔ بعد میں روزنامہ نیشن نے اسے جعلی قرار دیا اور کئی دیگر اخبارات نے اس’جعلسازی‘ پر افسوس کا اظہار کیا۔
لیکن کاؤس جی جنہوں نے پہلے بھی اس پر ایک کالم لکھا ہے، نے اتوار کو اپنے تازہ کالم میں کہا ہے کہ 12 ستمبر کو وہ مزار قائد گئے تھے جہاں انہوں نے ایک روز قبل آنے والی شخصیات کے تاثرات کی فوٹو کاپیاں طلب کیں اور انہیں صدر، گورنر سندھ اور وزیراعلیٰ سندھ کے درج کردہ ریمارکس کی کاپیاںفراہم کی گئیں۔ کاؤس جی کے بقول انہی کاپیوں کی بنیاد پربعد میں 14ستمبر کو انہوں نے اپنے کالم میں لکھا تھا کہ تناؤکے شکار ڈاکٹر کی لکھائی سے ملتی جلتی غیرواضح لکھائی میں آصف کی طرف سے یہ الفاظ درج کیے گئے تھے:
May Gaad [sic] give us the street [sic] to save Pakistan.
کاؤس جی کا دعویٰ ہے کہ جب یہ معاملہ انٹرنیٹ پر آیا تو حکام نے مزار قائد پر مہمانوں کے تاثرات کے لیے رکھی گئی کتاب کے دو صفحات نکال دیئے جن پر صدر زرداری اور اسٹیشن کمانڈر کراچی کے تاثرات درج تھے۔ اس کے نتیجے میں 100صفحات والی کتاب 98صفحات کی رہ گئی۔ پھر ایک نئے صفحے پر آصف زرداری کے ریمارکس دوبارہ لکھے گئے جن میں سپیلنگ درست کردی گئی۔
اردشیر کاؤس جی نے اپنے تازہ کالم میں بظاہر خود پر عائد کیے گئے اس الزام کا برا منایا ہے کہ انہوں نے صدر زرداری کی غلط سپیلنگ سے متعلق باتوں کی تصدیق کیے بغیر ہی 14ستمبر کا کالم لکھ ڈالا۔ کاؤس جی نے اپنے تازہ کالم میں اور بھی بہت کچھ کہا ہے۔ لیکن حکومت کے حامی جو پاکستان میں صحافیوں اور دیگر لوگوں پر پروپیگنڈہ کرنے کا الزام لگاتے ہیں وہ شاید ہی ایک بات کی وضاحت کر سکیں۔
مانا کہ پاکستانی میڈیا اور پاکستانی لوگ صدر زرداری کے خلاف پروپیگنڈہ کر رہے ہیں اور ان کے پیچھے کوئی خفیہ ہاتھ بھی ہے لیکن مغربی میڈیا کو پروپیگنڈہ کرنے کے لیے کس نے اکسایا ہے۔ حتیٰ کے صدر زرداری کا انٹرویو شائع کرنے والے امریکی اخبار وال اسٹریٹ جرنل نے بھی انٹرویو کے ساتھ اپنے تبصروں میں صدر کے ماضی کا بار بار ذکر کیا ہے۔ خصوصاَ جب صدر زرداری نے 100ارب ڈالر امداد کا مطالبہ کیا تو وال اسٹریٹ جرنل نے ان کے Checkeredماضی کا حوالہ دیا۔ اس سے پہلے سارہ پیلن سے ملاقات پر ٹیلی گراف نے ایسے تبصرے کیے جن کو یہاں پیش کرنا میں نامناسب خیال کرتا ہوں۔ دیگر بڑے اخبارات بھی آصف زرداری کے بارے میں کافی کچھ لکھ چکے ہیں۔ کیا یہ ممکن ہے کہ اخبارات کو یہ سب لکھنے کے لیے کسی نے خریدا ہو؟ ایسا ممکن دکھائی نہیں دیتا۔
دیکھتے ہیں کاؤس جی کے دعوے پر پیپلز پارٹی اور صدر کے ترجمان کا کیا مؤقف سامنے آتا ہے۔
Oct
4
2008
|
|
ڈرامے میں یہ کردارایک فلسماز ہیں |
آج ٹی وی پر عید کے دنوں میں نشر ہونے والے ایک ڈرامے ’سرکاری راج‘ نے اگر آپ کو بھی بقول شخصے ’ہلا کر رکھ دیا ہو‘ تو حیرت کی بات نہیں۔ اور اگر آپ نے انہی دنوں میں ٹی وی ون پر نشر ہونے والا ’سیاسی مشاعرہ قافیہ تنگ ہے‘ دیکھا ہو تو تفریح کے اس حد تک سیاسی ہونے پر آپ کو بھی ضرور تشویش ہوئی ہو گی کم از کم مجھے تو ضرور ہوئی ہے۔
سرکاری راج کے صرف چند ہی مناظر دیکھنے کا مجھے موقع ملا لیکن اس کے کرداروں کو ملکی سیاسیت سے جوڑنے میں ذرا بھی وقت نہیں لگا اور یہی اس کے تخلیق کاروں کی کامیابی ہے جو آج ٹی وی گروپ کے ’فورنیوز‘ والے ’لڑکے‘ ہیں۔
Oct
1
2008
محکمہ موسمیات نے اس مرتبہ 29ویں روزے کے اختتام پر چاند نظر نہ آنے کی پیش گوئی کی تھی۔ ٹی وی چینلز نے بھی کچھ ایسا سماں باندھا تھا کہ کئی لوگوں کو تیس روزے ہونے کا یقین تھا اور انہوں نے عید کی خریداری نہیں کی۔ رات گیارہ بجے عید کا اعلان ہونے کے بعد یہ لوگ خریداری کے لیے بھاگتے نظر آئے۔
مجھے شام کو ایک ایس ایم ایس موصول ہوا کہ چاند نظر نہیں آیا عید الفطر دو اکتوبر کو ہوگی اور پھر نصف شب کو ہم ایک دوسرے کو چاندرات اور عید کی مبارکبادیں دیتے پھر رہے تھے۔
رویت ہلال کمیٹی نے شام کو ابتدائی چند گھنٹوں کے اجلاس کے بعد چاند نظر نہ آنے کا اعلان بھی کردیا تھا اور بعد میں نظر آنے کا اعلان کیا گیا جس پر لوگوں کو کوفت ہوئی۔ رویت ہلال والوں نے یہ نہیں بتایا کہ پہلا اعلان ’سیاسی‘ تھا یا دوسرا۔
لیکن ہم بہرحال پورے اطمینان قلب سے عید منا رہے ہیں کیونکہ یہ تو ہو نہیں سکتا کہ محض شک و شبے کی بنیاد پر ہم دوسروں سے ہٹ کر ایک روزہ رکھتے پھیریں۔ اگر چاند نظر نہیں آیا تھا تو بقول میرے ایک دفتری ساتھی کے سارا گناہ اعلان کرنے والوں کے سر پر۔
جو لوگ رویت ہلال کو رویت حلال لکھتے اور پڑھتے ہیں ان میں سے ایک نے یہ کہا کہ یہ رویت ح۔۔۔ تھا۔ پورا لفظ اگر آپ کو سمجھ نہ آئے تو اچھا ہے۔ عید کے دن تلخ باتیں نہیں سوچنی چاہیئں۔
پاکستان میں رہنے والے تمام افراد سکون قلب اور خوشی کے ساتھ عید منائیں۔ سب کو میری طرف سے دلی عید مبارک! اور لاڈو مارکہ صابن والوں کی طرف سے بھی۔


