Apr
5
2009
سوات میں نوجوان لڑکی کو کوڑوں کی سزا کی ویڈیو پر بحث مباحثہ اب شاید جلد ٹھنڈا نہ پڑے اور اس کے نتائج بھی شاید بہت دور رس برآمد ہوں بالکل ویسے ہی جیسے لال مسجد آپریشن کی ویڈیو سامنے آنے کے نتیجے میں خودکش بمباروں کی کھیپ تیار ہوئی۔ لیکن ان دونوں ویڈیوز کی حقیقت جاننے کیلئے ہمیں چند برس پیچھے اور پاکستان سے کچھ دور عراق میں جانا ہوگا اور پھر شاید یہ تسلیم کرنا پڑے کہ یہ ویڈیوز پاکستان میں خانہ جنگی کا پیش خیمہ بن سکتی ہیں۔
سن 2003ء میں عراق پر امریکی حملے سے پہلے اس ملک کے لوگ عشروں سے صدام حسین کی مطلق العنان حکومت کے زیر سایہ زندگی گزار رہے تھے۔ ان کی زندگی کیسی بھی رہی ہو یہاں مسالک کے درمیان بڑی خونریزی کا سبب بننے والے اختلافات سامنے نہیں آئے۔ صدام حسین خود اور اس کی حکومت کے بیشتر عہدیدار اگرچہ سنی تھے لیکن اس کی حکومت کے دوران عراق میں اہل تشیع کو آزادی رہی جس کا بڑا ثبوت یہ ہے کہ پاکستان اور ایران سے زائرین کو عراق میں مقدس مقامات پر جانے کی کھلی اجازت تھی۔
امریکی حملے کے کچھ ہی عرصے بعد مغربی خبررساں اداروں نے یہاں کی آبادیوں کو شیعہ اور سنی میں تقسیم کرکے پکارنا شروع کردیا۔ لکھا جاتا کہ فلاں جگہ اتنے شیعہ جنگجو مارے گئے اور وہاں سنی عسکریت پسند ہلاک ہوئے ہیں حالانکہ یہ دونوں ہی امریکی فوج کے خلاف لڑ رہے ہوتے تھے۔ اس صورتحال میں شیعہ سنی کی تقسیم نیوز روم میں بیٹھے ہم لوگوں کو بے معنی اور غیر ضروری لگتی تھی لیکن کچھ عرصے بعد اس نے رنگ دکھایا۔ عراق میں شیعہ اور سنی ملیشیا بنیں۔ پھر ان میں تصادم ہوا۔ لوگ مسلک کی بنیاد پر اپنے اپنے علاقوں تک محدود ہوگئے اور نوگو زونز بن گئے۔ ہر روز بظاہر مسلکی اختلاف پر قتل کیے جانے والے درجنوں افراد کی لاشیں برآمد ہوتی تھیں۔ ایسے واقعات عام تھے کہ ایک جگہ مسلح افراد نے مسافر بس روکی۔ لوگوں کی شناختی دستاویزات دیکھیں اور پھر ایک فرقے کے لوگوں کو چھوڑ کر دوسروں کو مار ڈالا۔ ان واقعات کا نتیجہ یہ نکلا کہ عراق میں امریکی فوج کیخلاف براہ راست مزاحمت میں کمی ہوئی۔ تیل کی پائپ لائنیں اڑانے کے واقعات بھی کم ہوگئے جو مزاحمت شروع ہونے کے ابتدائی چند ماہ میں بہت زیادہ تھے۔( عراق میں استحکام آنے کے اگرچہ دیگر اسباب بھی ہیں لیکن مندرجہ بالا حقائق تاریخ کا اہم حصہ ہیں)
عراق کی طرح ہی اب پاکستان میں پہلے لال مسجد آپریشن کی مبینہ ویڈیو پھیلائی گئی۔ لال مسجد میں آپریشن اتنا شدید تھا کہ کسی عام شخص یا صحافی کیلئے وہاں پہنچ کر ویڈیو بنانا تقریباً ناممکن تھا اور اس بات کے امکانات بہت کم ہیں کہ یہ ویڈیو اصل ہوگی، خاص طور پر ویڈیو کا یہ منظر کہ سیکورٹی اہلکاروں نے آپریشن پر خوشی کا اظہار کیا۔ اس واقعے کے بارے میں جو سینہ گزٹ معلومات ملتی رہی ہیں وہ اس منظر سے میل نہیں کھاتیں کیونکہ فورسز کے اہلکاروں کے دل پر جو گزری وہ کسی اخبار یا ٹی وی چینل کی رپورٹ کا حصہ نہیں بن سکا۔ لیکن بعض لوگوں کی طرف سے لال مسجد آپریشن سے منسوب جو ویڈیو تقسیم ہوئی اس نے درجنوں نوجوانوں کے ذہن الجھانے اور انہیں خودکش حملوں کا ایندھن بننے پر اکسایا۔ یہ حملے اب تک جاری ہیں۔ یہ ویڈیو دینی رحجانات رکھنے والے طبقے بالخصوص قبائلی علاقوں کے لوگوں کیلئے شدید غم و غصے کا باعث بنی لیکن آج تک اس کے مآخد کا پتہ نہیں چلا۔
اب کوڑوں کی سزا کی جو ویڈیو سامنے آئی ہے اس کے بارے میں بھی کچھ باتیں اہم ہیں۔ اس ویڈیو کے بارے میں بی بی سی کی ابتدائی خبر جمعرات کی شام آئی، جو یقیناً تمام اخبارات اور ٹی وی چینلز میں پہنچی۔ اخبارات نے اسے موجودہ حالات کے تحت مناسب اہمیت دی اور یا تو اسے (جیسا کہ روزنامہ ایکسپریس میں ) دوکالم میں اندرونی صفحات پر لگایا گیا یا اسے سنگل کالم میں جگہ ملی۔ لیکن اگلے ہی روز منظم طریقے سے اس ویڈیو کی کاپیں مختلف ٹی وی چینلز کو پہنچائی گئیں اور پھر اس کے بار بار نشر ہونے کا سلسلہ چل پڑا۔ باوجود اس کے کہ یہ ویڈیو Graphic Content کے زمرے میں آتی ہے اور اس کی Authenticity پر سوالیہ نشانات موجود تھے۔
نوعمر لڑکی کو کوڑے مارنے کے دومنٹ کے اس کلپ نے لبرل طبقے کے ، بقول سابق وزیر اطلاعات شیری رحمان، رونگٹے کھڑے کر دیئے ہیں۔ بلاشبہ یہ ویڈیو بھی نہایت دلدوز ہے اور اس حقیقت کو بھی منانا چاہئے کہ پاکستان میں مختلف رحجانات رکھنے والے لوگ اس ملک کے قیام کے وقت سے بستے آرہے ہیں جو ایک دوسرے سے سو فیصد متفق کبھی نہیں ہوسکتے لیکن ماضی میں ان کے درمیان ایک دوسرے کی پوزیشن کے احترام کا رشتہ رہا ہے۔
جمعہ کو ٹی وی چینلز سے نشر کی گئی ویڈیوز نے اس رشتے میں بچا رہا سہا احترام بھی ختم کردیا۔ اب دونوں طرف کے پڑھے لکھے لوگ بھی بحث کرتے ہوئے انتہائی جذباتی ہو رہے ہیں اور ایک دوسرے کو سخت تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ پچھلے دو روز میں میں نے اس معاملے پر لوگ کو اس طرح الجھتے دیکھا ہے کہ چھوٹے بڑے کا ادب لحاظ کہیں ظاہر نہیں ہوتا۔ طعنہ زنی کا نہ ختم ہونے والا سلسلہ چل نکلا ہے۔
ان حالات کو دیکھ کر یہی کہا جاسکتا ہے کہ ویڈیوز کے ذریعے پاکستانیوں کو صف آراء کرنے والوں نے اس ملک کے عوام میں موجود اصل ’’فالٹ لائن‘‘ کو خوب پرکھا ہے۔ خدا ہمیں جذبات کی رو میں بہہ جانے سے بچائے۔
يَـٰٓأَيُّہَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ كُونُواْ قَوَّٲمِينَ لِلَّهِ شُہَدَآءَ بِٱلۡقِسۡطِۖ وَلَا يَجۡرِمَنَّڪُمۡ شَنَـَٔانُ قَوۡمٍ عَلَىٰٓ أَلَّا تَعۡدِلُواْۚ ٱعۡدِلُواْ هُوَ أَقۡرَبُ لِلتَّقۡوَىٰۖ وَٱتَّقُواْ ٱللَّهَۚ إِنَّ ٱللَّهَ خَبِيرُۢ بِمَا تَعۡمَلُونَ(المائدہ آیت ۸)
O you who believe! Stand out firmly for Allâh as just witnesses and let not the enmity and hatred of others make you avoid justice. Be just: that is nearer to piety, and fear Allâh. Verily, Allâh is Well-Acquainted with what you do.
Apr
1
2009
جماعت اسلامی کے نومنتخب امیر جناب منور حسن نے روزنامہ جنگ میں لکھے گئے اپنے ایک مضمون میں ’’اینٹی امریکہ اور اینٹی سیکولرازم‘‘ مہم شروع کرنے کا اعلان کیا ہے کیونکہ بقول ان کے ایک دو کے سوا سب جماعتیں امریکی کشتی میں کھڑی ہیں اور صوبے یا مرکز میں حکومت میں شریک ہیں۔ جناب منور حسن نے بجا طور پر بارک اوباما کی نئی پالیسی کو پاکستان مخالف قرار دیا ہے اور ان کا یہ نکتہ بہت وزن رکھتا ہے کہ قبائلی علاقوں میں اسامہ بن لادن اور ملاعمر کی موجودگی ویسا ہی جھوٹ ہے جیسا عراق میں وسیع تباہی کے ہتھیاروں کے بارے میں بولا گیا تھا۔ بیشتر لوگ امیر جماعت اسلامی کی اس بات سے بھی سوفیصد اتفاق کریں گے کہ روس، چین ، [بھارت] ایران سمیت سب کو اس معاملے میں شامل کرکے پاکستان پر دباؤ بڑھایا جائے گا۔
تاہم دو اہم معاملات پر جناب منورحسن نے کسی اصولی مؤقف کا اظہار نہیں کیا بلکہ ان دونوں چیزوں کو بالکل گول کر گئے۔
منور حسن نے ملت اسلامیہ کے لیے ایک بڑے مذہبی اور دینی پلیٹ فارم کی بات کرتے ہوئے متحدہ مجلس عمل کے تجربات سے استفادہ کرنے کی بات کی ہے۔ لیکن انہوں نے جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کے کردار کا کوئی ذکر نہیں کیا جنہوں نے پچھلے 9 برسوں میں ہمیشہ ذاتی مفاد کو قومی مفاد پر مقدم رکھا۔ جو مشرف دور میں قاضی حسین احمد کو مجلس عمل کے پلیٹ فارم سے کوئی بھی عملی اقدام اٹھانے سے روکتے رہے اور انہوں نے دینی جماعتوں کے اس اتحاد کو یرغمال بنائے رکھا۔ مولانا فضل الرحمان نے 18 فروری 2008ء کے انتخابات کے بعد بھی اپنا وہی کردار جاری رکھا۔ ایک دینی رہنما ہونے کا دعویدار کرنے والے شخص[جے یو آئی سربراہ] کا یہ رویہ بالکل اسی طرح قابل مذمت ہے جس طرح سیکولر سمجھی جانے والی جماعتوں پییپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) کی طرف سے امریکی پالیسی پر واضح مؤقف اختیار نہ کرنا قابل ملامت ہے۔
جناب منور حسن کے مضمون میں جو کالم کی صورت میں ادارتی صفحے پر شائع ہوا، مزید جو کمی شدت سے محسوس کی گئی وہ ملک میں ہونے والے دہشت گرد حملوں میں ملوث افراد کا ذکر تک نہ کرنا تھا۔ یہ بات سبھی جانتے ہیں کہ قبائلی علاقوں میں جب امریکی میزائل حملے ہوتے ہیں تو ان میں بے گناہ لوگ بھی جاں بحق ہوجاتے ہیں۔ بالفرض امریکہ کے اس مؤقف کو درست مانا بھی جائے کہ وہ القاعدہ و طالبان رہنماؤں کو نشانہ بنا رہا ہے تو بھی کئی بے گناہ انسانی جانوں کا ضیاع جسے ضمنی نقصان (Collateral Damage) قرار دیا جاتا ہے کوئی جواز نہیں رکھتا۔ اس ضمن میں لبرل انتہا پسند طبقے کی یہ دلیل نہایت ہی بھونڈی ہے کہ قبائلی علاقوں کے عوام یہ نقصان دہشت گردوں کو پناہ دینے کی وجہ سے اٹھا رہے ہیں۔
بعین اسی طرح دہشت گرد جب ملک کے کسی بھی حصے میں حملہ کرتے ہیں تو اس میں ہونے والے جانی نقصان کو کسی بھی طرح جائز قرار نہیں دیا جاسکتا۔ لیکن دوسری جانب کے انتہا پسند نہایت آسانی سے یہ کہہ دیتے ہیں کہ عام لوگ فورسز کے قریب ہونے کی وجہ سے مارے جاتے ہیں یا یہ کہ پاکستانی فورسز پر حملے حکومت کی جانب سے امریکی پالیسی کی حمایت کرنے پر کیے جا رہے ہیں۔
ہماری بدقسمتی یہ ہے کہ اس ملک کی دینی جماعتوں نے کبھی ایسے دہشت گرد حملوں کی دل سے مذمت نہیں کی، ویسے ہی جیسے حکومت قبائلی علاقوں میں ڈرون حملوں پر رسمی احتجاج کرتی ہے۔ جماعت اسلامی سمیت کسی دینی جماعت کی طرف سے دہشت گرد حملوں پر سخت الفاظ میں مذمت نہیں آئی اور یہ بات دہشت گردوں کیلئے خاصی حوصلہ افزاء ہے ۔
اس وقت من حیث القوم ہمیں امریکی دہشت گردی اور غیرملکی طاقتوں کے آلۂ کار وں کے حملوں دونوں ہی معاملات پر ٹھوس مؤقف اپنانے کی ضرورت ہے ۔ کرپشن داڑھی والے کریں یا بغیر داڑھی والے یہ دونوں صورتوں میں جرم ہے ۔ جناب منور حسن جہاں میاں نواز شریف کا مؤقف بدلنے پر سوال اٹھاتے ہیں وہاں انہیں ایسے شخص کیلئے بھی دو حرف لکھنے کی ضرورت تھی جو اصولی مؤقف سے یکسر محروم ہے۔
درست کہ عدلیہ بحالی تحریک سے یہی ثابت ہوتا ہے کہ مقاصد پرامن احتجاج سے حاصل ہوتے ہیں لیکن قابل غور ہے یہ بات کہ اس تحریک میں عوام نے صرف ٹھوس اصولی مؤقف رکھنے والوں ہی کی حمایت کی۔
Mar
30
2009
سابق صدر پرویز مشرف سے اتوار کو چین روانگی سے قبل پہلی بار میڈیا نے وہ سوال کیے جو اب تک نہیں صحافیوں کے لب سے نکل نہیں پا رہے تھے۔ مشرف کی ہنسی پہلی بار بند ہوگئی، وہ بھاگ کر چین جانے والے طیارے پر سوار ہوئے اور ایک رپورٹ کے مطابق شاید اس مرتبہ واپس نہ آئیں گے۔
اسلام آباد ایئرپورٹ پر پوچھے گئے سوال تھے لال مسجد آپریشن کے بارے میں، آئین کے آرٹیکل 6 کے تحت پرویز مشرف کیخلاف سنگین غداری کا مقدمہ درج کرنے کے مطالبات کے بارے میں اور پرویز مشرف کی عدالت عظمیٰ میں ممکنہ طلبی کے بارے میں۔
سابق صدر کا کہنا تھا کہ لال مسجد آپریشن کو قتلِ عام کا حکم قرار نہیں دیا جاسکتا۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ لال مسجد میں صرف 93 افراد مارے گئے، اگر کسی کو شک ہے تو قبرکشائی کروا لے۔ دو مرتبہ آئین کو توڑ مروڑ کر پھینکنے والے پرویز مشرف سے جب اس بارے میں پوچھا کیا گیا تو جواب تھا کہ وقت آنے پر دیکھیں گے۔
ان سوالات کی بدولت پہلی بار یہ ہوا کہ پرویز مشرف نے صحافیوں کے ساتھ روایتی ’’پریس ٹاک‘‘ نہیں کی، ہنس ہنس کر سوالوں کے جواب نہیں دیئے اور 15روزہ دورے پر چین روانہ ہوگئے، جہاں بقول ان کے وہ لیکچرز دیں گے۔
پرویز مشرف کی روانگی کی صبح ہی روزنامہ نوائے وقت میں ایک سنگل کالم خبر چھپی کہ سابق صدر چین سے لندن پہنچ جائیں گے جہاں وہ آئندہ ایک سے دو سال قیام کریں گے۔ ممکن ہے چین کے 15 روزہ دورے میں وہ پاکستان کے اندر حالات کی پیشرفت دیکھ کر لندن جانے نہ جانے یا وطن واپسی کا فیصلہ کریں۔ پرویز مشرف نے اپنے جس دورہ چین کو 15 روزہ بتایا اس کے بارے میں پہلے سنا جا رہا تھا کہ 6 روزہ ہے۔ اس دورے سے کچھ دن قبل ہی پرویز مشرف کا نام ایگزٹ کنٹرول لسٹ میں ڈالنے کی درخواستیں بھی عدالت میں دائر ہوئی تھیں۔
سابق صدر کیخلاف مقدمات کا مطالبہ کئی مہینوں سے کیا جا رہا ہے لیکن اس میں شدت 16 مارچ کو معزول ججوں کی بحالی کے بعد آئی ہے۔ انہی دنوں روزنامہ جنگ نے صفحہ اوّل پر ایک خبر شائع کی کہ اگر پرویز مشرف پر مقدمہ چلا تو جی ایچ کیو سابق فوجی سربراہ کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہ خبر جنگ کے رپورٹر صالح ظافر کے نام سے تھی جن کے بارے میں تاثر پایا جاتا ہے کہ وہ جی ایچ کیو سے صلاح لے کر ہی اپنی کاپی لکھتے ہیں۔
لال مسجد وہ المناک واقعہ ہے جس نے پاکستان کو کئی دہائیوں پیچھے دھکیل دیا، جو فوج کی ساکھ کو بدترین نقصان پہنچانے کا سبب بنا اور جس نے خودکش بمباروں کی نئی ’’بمپر فصل‘‘ تیار کی۔ ملک کے دو معروف کالم نگار جاوید چوہدری اور اوریا مقبول جان بارہا اس خیال کا اظہار کر چکے ہیں کہ لال مسجد اور جامعہ حفصہ کے طلبہ و طالبات کو پانی، بجلی اور خوراک کی فراہمی بند کرنے کا ہی نتیجہ ہے ملک میں یہ چیزیں کم یاب ہوگئیں۔ اوریا مقبول جان نے ایک مرتبہ اس سانحے پر اجتماعی استغفارکی اپیل بھی کی تھی لیکن وہ قوم جو ججوں کی بحالی کیلئے گھروں سے نکل سکتی ہے وہ کبھی اس سانحے پر یک جاں نہیں ہوسکی۔
اب پرویز مشرف کواس معاملے میں بچ نکلنے کا موقع مل رہا ہے یا مل گیا ہے۔ چین سے ان کی واپسی کے بارے میں کچھ بھی کہنا مشکل ہے۔ لال مسجد میں اگر سابق صدر کیخلاف واضح طور پر کچھ ثابت نہ ہوسکے تو 3نومبر 2007ء کو آئین توڑنے کا ان کا اقدام ایسا ہے جسے تاحال پارلیمنٹ نے استثنیٰ نہیں دیا اور دینے کی پوزیشن میں بھی نہیں۔
مشرف آئین کے مختصر سے آرٹیکل 6 کی زد میں پوری طرح آرہے لیکن پتا نہیں کون سی وہ دفعہ ہے جو ملزموں کو بھگا دینے والوں پر عائد ہوتی ہے۔
Mar
29
2009
When US president Barack Obama announced his “news comprehensive strategy” on Friday saying there would be no more “blank check” for Pakistan and termed Afghan-Pak border areas as “dangerous” zone, two ex-generals of Pakistan Army promptly declared Obama’s plan “a conspiracy to frame Pakistan for the failure of West in Afghanistan.”
Hamid Gul, who headed ISI during American-backed Jihad against the Soviet Union, says Obama’s call to include China, Russia and India into a new UN Contact Group for Afghanistan was attempt to build pressure on Pakistan. Washington is framing Pakistan for its own failures in Afghanistan, he said in an interview.
Gul believes $1.5 billion US aid to Pakistan would be siphoned-off by the NGOs, which would supposedly be entrusted with the money rather than the Pakistan government. It is going to weaken the government writ, he said.
Former Army Chief Gen. (retd) Mirza Aslam Baig said Obama wanted Pakistan to win the “ US lost” Afghan war for him; and his administration can pursue Islamabad to backtrack from the peace deals with the militants in tribal areas and Swat valley.
He is suspicious of US intentions, which according to him, were destruction of Pakistani military before Naton and US allies withdrew from Aghanistan. The both former generals both spoke Friday evening, only a few hours after Obama’s speech at capital hill.
Those suspicions appeared standing up the very next day when chairman of the joint chiefs of staff of US military Adm. Mike Mullen was quoted as saying “there are certainly indications” that elements in the ISI had links with militants. While the accusation is not new, this time it came from the top level of US military and it came openly!
The comments show ever growing frustration in Washington over its inability to rein in Taliban in Afghanistan. Everybody is well aware of US frustration but will it vent this anger on Pakistan?
